ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے درمیان ’آبنائے ہرمز‘ اصل میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے جسے ایران نے بند کر رکھا ہے۔ ہرمز بند ہونے سے مشرق وسطیٰ کا تیل ’گلوبل آئل مارکیٹ‘ نہیں پہنچ پا رہا جس کی وجہ سے تیل کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ جہاں دوسرے ممالک کے تیل ٹینکر آبنائے ہرمز پار نہیں کر پا رہے ہیں، وہیں ہندوستان کو ایک اہم کامیابی ملی ہے۔ ہندوستان کا ایک تیل ٹینکر جنگ کے درمیان بحفاظت ممبئی پہنچ گیا ہے۔
ممبئی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ ٹینکر بدھ کو ممبئی کی بندرگاہ پہنچا۔ جہاز کا بحفاظت آبنائے ہرمز پار کرنا انتہائی خطرناک تھا لیکن ہندوستانی کیپٹن کی دانشمندی نے ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے پار کرا دیا۔ آبنائے ہرمز کے انتہائی خطرناک زون سے گزرتے وقت جہاز نے کچھ دیر کے لیے اپنا ٹریکنگ سسٹم بند کر کے ’ڈارک موڈ‘ میں انٹری کر لیا تھا۔ لائبیریا کے جھنڈے والا ٹینکر ’شینلونگ سویزمیکس‘ سعودی عرب کی راس تنورہ بندرگاہ سے لدا ہوا خام تیل لے کر بدھ کے روز ممبئی پورٹ پہنچا۔ جہاز میں 135335 میٹرک ٹن خام تیل موجود تھا، جس کی اَن لوڈنگ شروع کر دی گئی ہے اور اسے ممبئی کی ریفائنریوں تک پہنچایا جائے گا۔
ٹینکر ٹریکنگ پلیٹ فارمس کے مطابق شینلونگ سویزمیکس کا آخری سگنل 9 مارچ کو آبنائے ہرمز میں درج ہوا تھا۔ اس کے بعد جہاز نے آبنائے سے گزرتے وقت کچھ وقت کے لیے اپنا آٹومیٹک آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم (اے آئی ایس) بند کر دیا تھا۔ یہ جہاز ایک دن بعد دوبارہ ٹریکنگ سسٹم پر دکھائی دیا اور بدھ کو ممبئی پہنچ کر لنگر انداز ہو گیا۔ ٹینکر ٹریکنگ ویب سائٹ TankerTrackers.com کے مطابق کم از کم 48 گھنٹوں سے خام تیل لے جانے والے 2 بہت بڑے کروڈ کیریئرز (وی ایل سی سی)، 3 سویزمیکس ٹینکر جو مکمل طور پر لوڈ ہونے کے باوجود سویز نہر سے گزر سکتے ہیں اور ایک پنامیکس ٹینکر اے آئی ایس ٹریکنگ سے آف لائن رہے ہیں۔ پنامیکس ٹینکر ان جہازوں کو کہا جاتا ہے جن کا سائز اصل پنامہ نہر کے لاک کے زیادہ سے زیادہ طول و عرض کے مطابق ڈیزائن کیا جاتا ہے۔ یہ جہاز چین، ہندوستان اور جاپان کی طرف بڑھ رہے تھے۔
واضح رہے کہ آٹومیٹک آئیڈنٹی فیکیشن سسٹم (اے آئی ایس) جہازوں پر لگا ایک سسٹم ہوتا ہے، جو جہاز کی پہچان، لوکیشن اور اس کی نقل و حرکت کی معلومات خود بخود دوسرے جہازوں اور ساحلی اتھارٹی تک پہنچاتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد بحری نیوی گیشن کو محفوظ بنانا، ٹکراؤ کو روکنا اور سمندری نگرانی کو آسان بنانا ہے۔ جب کوئی جہاز اس سسٹم کو بند کر دیتا ہے، تو سمندر میں اس کی لوکیشن کا پتہ لگانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ تمام تجارتی جہازوں کے لیے اپنا اے آئی ایس سسٹم آن رکھنا لازمی ہوتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف حملے شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز بند ہے۔ یہاں سے ہر روز 2 کروڑ بیرل سے زیادہ خام تیل گزرتا ہے۔ یہ عالمی سطح پر تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد اور سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ گزشتہ 2 ہفتوں میں ایران کم از کم 16 جہازوں پر حملہ کر چکا ہے اور اس نے وارننگ دی ہے کہ اس خطے میں چلنے والے جہازوں پر مزید حملے ہو سکتے ہیں۔
دریں اثنا ہندوستانی حکومت نے بتایا ہے کہ فی الحال خلیج فارس کے خطے میں ہندوستان کے جھنڈے والے 28 جہاز چل رہے ہیں۔ ان میں سے 24 جہاز جن پر 677 ہندوستانی بحری عملہ سوار ہیں جو آبنائے ہرمز کے مغرب میں موجود ہیں، جبکہ 101 ہندوستانی بحری عملہ والے 4 جہاز ہرمز کے مشرق میں ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بدھ کے روز گجرات کی کانڈلا بندرگاہ کی طرف جا رہے ایک تھائی جہاز پر بھی آبنائے ہرمز میں حملہ ہوا، جس پر ہندوستان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

































