ہندوستان کی عالمی بالا دستی کا خمار اور حقیقت کی دستک

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 11, 2026361 Views


 زاویہ الہندیہ وہ مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ ایسے میں مودی کی جانب سے زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔ اس کے علاوہ مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں بھی شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جس دوران اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔

فوٹو بہ شکریہ: منیر حسن انصاری

گزشتہ  25  فروری کی شام جب یروشلم کے پرانے شہر کی فضاؤں میں مسجد اقصیٰ کے بلند پایہ میناروں سے اذان کی آواز کے ساتھ افطار کا اعلان ہورہا تھا، تو اس سے چند سو میٹر کے فاصلے پر ایک صحن میں جہاں ہندوستانی ترنگا لہرا رہا تھا، انصاری خاندان کی نظریں اپنے ٹیلی ویژن سیٹ پر جمی ہوئی تھیں۔

اس جگہ سے محض ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اسرائیلی پارلیامان یعنی کنیسٹ میں   خطاب کر رہے تھے۔

یہ خاندان تقسیم ہند سے قبل کے برصغیر کے اس تہذیبی نقش قدم کا امین اور پاسباں ہے جسے دنیا ’زاویہ الہندیہ‘ کے نام سے جانتی ہے۔

مقدس شہر یروشلم کے ہیرودس گیٹ یعنی بابِ زاہرہ سے چند ہی میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کے مکینوں کو قوی امید تھی کہ شاید ہندوستانی وزیر اعظم ان کے تاریخی صحن میں بھی قدم رنجہ فرمائیں گے۔مگر مودی کی مصروفیات کچھ اور ہی تھیں، جس میں کسی بھی مسلم علامت کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔

 زاویہ الہندیہ وہ نادر و نایاب مقام ہے جہاں برصغیر کے مسلمانوں کی روحانی تاریخ اور فلسطین ایک دوسرے سے ہم آغوش ہوتے ہیں۔ یہ صحن بارہویں اور تیرہویں صدی کے عظیم صوفی بزرگ حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی یادوں سے منور ہے، جنہوں نے روایات کے مطابق یہاں چالیس روز تک چلہ کشی اور اعتکاف کیا تھا۔

بابا فریدؒ کا مزارِ اقدس اگرچہ آج پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر پاکپتن میں مرجعِ خلائق ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات کی عدم موجودگی نے عملی طور پر 1947  کے بعد ہندوستان کو برصغیر کی اس  عظیم مشترکہ میراث کا تنہا وارث اور نگراں بنا دیا ہے۔

سال 1992میں اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات کی بحالی کے چار سال بعد جب ہندوستان  کے اس وقت کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے یروشلم کا دورہ کیا تھا،تو انہوں نے اس خانقاہ میں حاضری دی تھی۔

تب سے آج تک اسرائیل اور فلسطین کا سفر کرنے والے تقریباً ہر ہندوستانی وزیر اور معزز شخصیت نے زاویہ الہندیہ کو اپنے شیڈول کا لازمی حصہ بنایا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ وزیر خارجہ ایس جئے شنکر بھی تین بار یہاں حاضری دے چکے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں اسے اکثر یروشلم میں ایک ‘ہندوستانی نگینہ’ یعنی انڈین جویل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس کے ماتھے پر یہ عبارت درج ہے؛

یروشلم میں موجود ہندوستان میں خوش آمدید۔

فوٹو بہ شکریہ: منیر حسن انصاری

زاویہ الہندیہ کے موجودہ نگراں شیخ منیر حسن انصاری بتاتے ہیں کہ ان کے دادا، جن کا تعلق اتر پردیش سے تھا، کو ٹھیک سوسال قبل عثمانی ترکوں کے اس علاقے سے انخلاء کے بعد اس صحن کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

یہ فیصلہ مفتی اعظم فلسطین کی درخواست  پر تحریک آزادی کے اکابرین جیسے ایم ایم انصاری اور مولانا محمد علی جوہر نے کیا تھا تاکہ یروشلم میں موجود برصغیر کی اس یادگار کی حفاظت کی جا سکے۔

مودی نے صرف یروشلم میں موجود اس ‘ہندوستانی نگینے’کو نظر انداز نہیں کیا، بلکہ  اس کے بجائے انہوں نے اپنا وقت اسرائیلی ٹیلی ویژن سیریز ‘فوضیٰ’ کے اداکاروں کے ساتھ گزارا اور اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) میں ان کے تجربات پر تبادلہ خیال کیا۔

نئی دہلی واپسی سے قبل انہوں نے یروشلم میں ہولوکاسٹ میوزیم یدوشم کا دورہ بھی کیا۔

ہندوستان میں اس وقت مودی کے اس دورے کے وقت کے حوالے سے خاصی بحث ہو رہی ہے۔کوئی یہ بتا نہیں پا رہا ہے کہ  مودی نے اسرائیل کا یہ دورہ کیوں کیا، جبکہ باری ان کی نہیں بلکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی نئی دہلی آنے کی تھی۔

یہ سب اس حقیقت کو جاننے کے باوجود کیا گیا کہ ایران پر جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے دورے کا  بنیادی مقصد نیتن یاہو کو ان کی عالمی تنہائی سے نکالنے میں مدد فراہم کرنا تھا اور اپنے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے سفار ش کروانی تھی، جس نے تجارتی معاہدوں اور مودی کے دست راست صنعتکار اڈانی کا ناطقہ بند کیا ہوا ہے۔

 مودی ان گنے چنے چند سربراہانِ مملکت میں شامل ہیں جنہوں نے گزشتہ دو سالوں کے دوران اسرائیل کا سفر کیا ہے، جس دوران اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی مسلسل نسل کشی میں مصروف رہا ہے۔

ان کی نئی دہلی واپسی کے محض ایک دن بعد ہی، اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف نہ صرف اعلان جنگ کیا، بلکہ ایران کے سپریم لیڈر اور روحانی لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت کئی اعلیٰ سیاسی و فوجی لیڈران کو ہلا ک کردیا، جو عمان کی ثالثی میں طے پائے گئے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کے خد و خال کو آخری شکل دینے کے لیے جمع ہو گئے تھے۔

ان حملوں نے ہندوستان کے لیے سفارتی محاذ پر ایک ناگوار صورتحال پیدا کر دی ہے۔ایک وقت تھا کہ جب فروری 1979کو چین اور ویت نام کی جنگ چھڑ گئی تھی، تو ہندوستان کے اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پیکنگ (موجودہ بیجنگ) کے سرکاری دورے پر تھے۔ بطور احتجاج وہ دورہ ادھورا چھوڑ کر نئی دہلی واپس لوٹے اور جنگ کے خلاف احتجاج بھی درج کروایا۔

وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اسرائیلی ہم منصب نیتن یاہو کے ساتھ اسرائیل میں ایک میٹنگ  کے دوران۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

ہندوستان نے ابھی تک ایران پر ہونے والے اس بلا اشتعال حملے کی مذمت بھی نہیں کی ہے، حالانکہ ایران کے ساتھ اس کے گہرے دو طرفہ تعلقات رہے ہیں۔جب 2024میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہو گئے، تو ہندوستان میں ایک دن کے قومی ماتم کا اعلان کیا گیا اور وزیر اعظم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ

وہ ایرانی صدر کی ناگہانی موت سے بہت دکھی اور سوگوار ہیں اور بھارت ماتم کی اس گھڑی میں ایران کے ساتھ کھڑا ہے۔

 اب مبصرین یہ سوال کرتے ہیں کہ 2024 اور 2026 کے درمیان ایسا کیا کچھ ہوگیا کہ ہندوستان کے پاس ایران کے لیے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں نکل سکے۔ اور تو اور وزارت خارجہ نے تمام سفارت خانوں کو باضابطہ ایک میمو کے ذریعے متنبہ کیا کہ ایرانی سفارت خانوں میں تعزیت پرسی کے لیے نہ جائیں۔

جب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے واویلا مچایا، تو سکریٹری خارجہ وکرم  مصری نے نئی دہلی میں مقیم ایرانی سفارت خانے جاکر تعزیتی رجسٹر پر دستخط کیے۔

پھر اسی ہفتے، ہندوستان کے دورے سے واپس جانے والے ایران کے ایک بحری جہاز کو امریکہ نے بین الاقوامی پانیوں میں تاررپیڈو سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں جہاز پر سوار درجنوں افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ جہاز غیر مسلح تھا اور امریکہ-اسرائیل کی ایران پر جنگ کے آغاز سے قبل ہندوستان کی دعوت پر ‘انٹرنیشنل فلیٹ ریویو’ میں شرکت کے لیے گیا تھا۔

سابق ہندوستانی فوجی افسران اور سفارت کاروں نے اس واقعے کو ہندوستانی حکومت کے لیے ایک تزویراتی شرمندگی اور اس کی علاقائی ساکھ کے لیے ایک دھچکاقرار دیا ہے۔

ہندوستان کے اس سرد  ردعمل نے ہندوستانی لبرل طبقے اور اہم اپوزیشن جماعتوں کو حیران کر دیا ہے۔ آخر کار، ایران ہندوستان کے لیے محض ایک واقف کار نہیں تھا۔ بلکہ دہائیوں سے ایران کا شمار ہندوستان کے قریب ترین اتحادیوں میں ہوتا رہا ہے۔

ہندوستان، طویل عرصے سے خود کو بحرِ ہند  میں سلامتی کے ضامن کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔تشویش ناک پہلو یہ تھا کہ اس جہاز پر موجود عملہ کو بچانے کے لیے ہندوستان کے بجائے سری لنکا کی بحریہ حرکت میں آئی۔

بقول سینیر صحافی شیکھر گپتا’آپریشن سیندور ہندوستان کے لیے ایک تلخ حقیقت بن کر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق یکے بعد دیگرے پی ایس ایل وی  کی دو ناکامیاں، عسکری صلاحیت کے حامل بیش قیمت سیارچوں کا زیاں، انٹلی جنس اور نگرانی (آئی ایس آر) کے اپنے وسائل کی کمی، اور ایک نئے معرکے کی صورت میں اسٹینڈ آف ہتھیاروں، ڈرونز، سینسرز اور فضائی دفاع کی ناگزیر ضرورت یہ سب نوشتہ دیوار بن چکے ہیں اور اس کے لیے اسرائیلی مدد درکار ہے۔

یہ بھی عیاں ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ہندوستان اب ایک فریق بن چکا ہے، اور وہ فریق ’اسرائیل-امارات گٹھ جوڑ‘ ہے۔ اس پس منظر میں 19 جنوری کا  متحدہ عرب امارات کے حکمران شیخ محمد بن زاید (ایم بی زیڈ) کا تین گھنٹے کا اچانک اور پُراسرار دورہ نئی دہلی بھی اب سمجھ میں آتا ہے۔

اس صورتحال نے ان سوالات کو جنم دیا ہے کہ ہندوستان کس طرح اسرائیل کے ساتھ اپنی بڑھتی ہوئی شراکت داری اور مغربی ایشیا میں اپنے دیرینہ مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھے گا، جہاں لاکھوں ہندوستانی برسر روزگار ہیں۔

اپنے خطاب میں مودی نے ویسے تو غزہ امن اقدام کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ کوئی بھی پائیدار امن فلسطینی مسئلے کے حل کے بغیر ممکن نہیں، مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صرف کاغذ کی حد تک توازن پیدا کرنے کی کوشش تھی۔

فلسطینی رہنماؤں اور کئی اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے بھی مودی کے دورے کو ‘قبل از وقت’ قرار دیا، جس کی تصدیق ایران پر حملے سے ہو گئی، کیونکہ اب یہ دورہ ان حملوں کی خاموش تائید معلوم ہوتا ہے۔

فلسطینی مصنف اور سماجی کارکن احمد ارتیما کا استدلال ہے کہ ایک دانش مندانہ طریقہ کار یہ ہوتا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مستحکم ہونے اور انسانی ہمدردی کی راہداریوں کے فعال ہونے کا انتظار کیا جاتا، نہ کہ ایسے وقت میں دورہ کیا جاتا جب خطہ ایک فعال میدانِ جنگ میں تبدیل ہونے والا تھا۔

موجودہ صورت حال نے ہندوستان کے گلوبل ساؤتھ کے لیڈر کے دعوے کی بھی پول کھول کر رکھ دی۔

ہندوستان کے لیے ایران یا سعودی عرب سے کھلی دشمنی مول لینا ایک پیچیدہ اور مہنگا سودا ہوگا۔ ہندوستان نے تاریخی طور پر ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور چابہار بندرگاہ جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔

25 فروری 2026 کو پوسٹ کی گئی اس تصویر میں، وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ، یروشلم، اسرائیل میں۔ تصویر: ایکس/ نریندر مودی وایا پی ٹی آئی

اسرائیل کے ساتھ گہری اسٹریٹجک وابستگی نئی دہلی پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کہ وہ ایران مخالف محور کا حصہ نہ بنے۔ اب تہران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کی قیمت بڑھ سکتی ہے، اور ہندوستان کی مغربی ایشیا پالیسی کو ‘ملٹی الائنمنٹ’ کے بجائے اسرائیل کی طرف بتدریج منتقلی کے طور پر دیکھا جائے گا۔

فلسطینی رہنما احمد مجدلانی یاد دلاتے ہیں کہ ہندوستان، اسرائیل میں اپنی ساکھ کو امن کے لیے اسی طرح استعمال کر سکتا تھا جیسے 80   کی دہائی کے اوائل میں ناروے نے کیا تھا۔ 1979میں جب ناروے میں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے، تو اس پر اسرائیل کو تیل فراہم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، لیکن نارویجن وزیر اعظم نے جب یاسر عرفات سے مشورہ کیا، تو بتایا جاتا ہے کہ فلسطینی لیڈر نے ایک عملی موقف اختیار کرکے ناروے کو بتایا کہ وہ اس پوزیشن کو استعمال کر کے اسرائیل کو فلسطینیوں کے ساتھ پسِ پردہ مذاکرات پر مجبور کردے۔

یہی کوششیں چودہ سال بعد ‘اوسلو معاہدے’ پر منتج ہوئیں، جہاں دو ریاستی فارمولے کو پذیرائی ملی اور عرفات مغربی کنارہ اور غزہ کو اسرائیل سے خالی کردیا۔

تجزیہ کاروں کو کا کہنا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی وزن ناروے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس میں تمام فریقین سے بات کرنے کی صلاحیت ہے، بشرطیکہ وہ اپنی علامات کا انتخاب احتیاط سے کرے۔

آخر کار، سفارت کاری صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ ان جگہوں سے بنتی ہے جہاں ایک لیڈر دورہ اور تقریر کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔

زاویہ الہندیہ کو نظر انداز کر کے کنیسٹ کو اولیت دینا کسی ایسے رہنما کا اشارہ نہیں تھا جو پائیدار امن، فلسطینی وقار یا گلوبل ساوتھ کی لیڈرشپ کے لیے کوشاں ہو۔

ہندوستان نے غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو فوری طور پر قبول نہیں کیا اور ہتھیاروں کی پابندی کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنے ہتھیاروں کے سودوں پر نظر ثانی کرنے سے پہلے اپنے قومی مفاد کو مدنظر رکھے گا۔

مختصراً یہ کہ، اس جنگ میں ہندوستان کی عالمی حیثیت بری طرح متاثر ہو گئی ہے۔ شیکھر گپتا، جو کئی برسوں سے مودی کی مدح سرائی میں مصروف تھے، بھی اب بتا رہے ہیں کہ ہندوستان اپنی بڑائی کے اس نشے میں دھت تھا۔ اس نے مان لیا تھا کہ وہ ایک ایک ابھرتی ہوئی اور ناگزیر عالمی طاقت ہے اور اسی خمار میں اس کے لیڈران پچھلی ایک دہائی سے  جی رہے تھے اور یہی سبق اپنی قوم کو میڈیا کے ذریعے پڑھا رہے تھے۔

مگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ہندوستان کو حقیقت کی دنیا میں واپس پہنچا دیا ہے۔

گپتا کے بقول اب وقت آگیا ہے کہ کہ ایک لمبی سانس لی جائے، خود ستائی کا سلسلہ بند کیا جائے، اور اپنی معیشت، دفاع، سماجی ہم آہنگی، اندرونی سیاست کی درستی اور قومی یکجہتی کی تعمیرِ نو پر توجہ دی جائے۔ مشکل ہے؟

لیکن ٹرمپ کے بقیہ تین سالوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مودی حکومت کے لیے لازم ہے کہ ’عاجزی‘  اختیار کرے، جو پچھلے مدہوش کن گیارہ سالوں میں دفن ہوگئی ہے۔

بجائے اسرائیل کی خوشامد کرنے کے اس عالمی تذلیل کا مقابلہ کرنے کے لیے ہندوستان کو چاہیے کہ گھر اور باہر پڑوس میں تھوڑی انکساری سے کام لے۔ پڑوسیوں اور خطے کے ممالک کے ساتھ رابطہ استوار کرکے امن کی راہیں نکالے، حل طلب مسائل کو احسن طریقے سے نپٹائے اور چیختی چنگھاڑتی ٹی وی چینلوں اور اس کے اینکروں پر بھی لگام کس دے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...