اتم نگر واقعہ پر جمعیۃ علماء ہند نے جوائنٹ پولیس کمشنر سے کی ملاقات، وزیر داخلہ کو بھی لکھا خط

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 10, 2026359 Views


جوائنٹ کمشنر پولیس جتندر نروال نے وفد کو یقین دلایا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں اور نفرت و افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کا وفد</p></div><div class="paragraphs"><p>جوائنٹ پولیس کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند کا وفد</p></div>

i

user

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے آج مولانا محمود اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر جوائنٹ پولیس کمشنر جتن نروال سے ان کے دفتر جنک پوری میں ملاقات کی۔ اس وفد کی قیادت جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے کی۔

وفد نے اتم نگر واقع جے جے کالونی میں 26 سالہ ترون کمار کی موت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورت حال اور بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ایک تفصیلی میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں جمعیۃ کی طرف سے مرکزی وزیر داخلہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر اور دہلی پولیس کمشنر کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے۔

وفد نے پولیس حکام کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد علاقہ کے مسلمان شدید خوف اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ بعض فرقہ پرست عناصر  مسلسل اشتعال انگیزی کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور ان کی املاک کو نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی نفرت انگیز ویڈیوز اور اشتعال انگیز نعروں کے ذریعے ایک پوری کمیونٹی کو برباد کرنے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس کی راجدھانی میں ایسے عناصر اس قدر حوصلہ سے نسل کشی کی دھمکی دے رہے ہیں اور ان کو کسی کارروائی یا قانون کا کوئی خوف نہیں ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے اپنے میمورنڈم میں کہا کہ ترون کمار کی موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے اور تنظیم اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن مکمل صورت حال کا سامنے آنا ضروری ہے، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائے۔ میمورنڈم میں یہ بھی کہا گیا کہ مقامی لوگوں کے مطابق یہ واقعہ دو فریقوں کے درمیان جھگڑے کا نتیجہ ہے، تاہم بعض عناصر نے اسے فرقہ وارانہ رنگ دے کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔

میمورنڈم میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی گئی کہ واقعہ کے بعد ملزمین اور ان کے پڑوسیوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کی اطلاعات ملی ہیں اور ایم سی ڈی کی جانب سے کی گئی بلڈوزر کارروائی بھی قانونی طریقہ کار کے مطابق نہیں معلوم ہوتی، جبکہ سپریم کورٹ واضح کر چکی ہے کہ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی صرف قانون کے طے شدہ طریقہ کار (Due Process of Law) کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔

جمعیۃ علماء ہند نے اس موقع پر حکومت اور پولیس انتظامیہ کے سامنے یہ مطالبات پیش کیے کہ فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے اور تشدد پر اکسانے والے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور سوشل میڈیا پر پھیلائی جا رہی اشتعال انگیزی پر فوری روک لگائی جائے۔ جے جے کالونی اور اطراف کے علاقوں میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے مؤثر سیکورٹی انتظامات کیے جائیں۔ واقعہ کے بعد ہونے والی توڑ پھوڑ، لوٹ مار اور آگ زنی کے واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔ نیز رمضان المبارک اور عید الفطر کے پیش نظر مسلمانوں کو بازار کھولنے، مساجد میں نماز ادا کرنے اور عیدگاہ میں نماز عید ادا کرنے کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

جوائنٹ کمشنر پولیس جتندر نروال نے وفد کو یقین دلایا کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں اور نفرت و افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ باہر کے افراد کے علاقے میں داخلے پر پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے امن کمیٹی کی میٹنگ بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مسلمانوں کو عبادات اور روزمرہ سرگرمیوں کے لیے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ انہوں نے فوری طور پر مقامی تھانے سے رابطہ کر کے بازار کی صورتحال معلوم کی اور ہدایت دی کہ دکانیں معمول کے مطابق کھولی جائیں اور مسلم دکانداروں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس وفد میں ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، ایڈوکیٹ محمد نوراللہ (سپریم کورٹ)، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے صدر مولانا محمد قاسم نوری، نائب صدر مولانا قاری عارف قاسمی، جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کے سکریٹری حافظ محمد یوسف اعظمی، مولانا مفتی محمد ذاکر قاسمی (مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند) اور قاری فرقان چودھری (صدر جمعیۃ علماء شمال مغربی دہلی) شامل تھے۔ مقامی افراد میں جناب جمیل احمد (سماجی کارکن) اور محمد سرتاج نے بھی وفد کے ساتھ شرکت کی اور پولیس حکام کو علاقے کے حالات اور عوامی خدشات سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند نے مقامی افراد سے امن وامان بنائے رکھنے کی اپیل کی اورکہا کہ اگر ضرورت ہو جمعیۃ علماء ہند ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...