
اس معاملے کی جڑیں گہری ہیں اور یہ سپریم کورٹ میں بھی زیر التوا ہے۔ سپریم کورٹ کے عبوری حکم نامے کے مطابق نچلی عدالتوں کو سروے سمیت کوئی بھی موثرعبوری یا حتمی حکم دینے سے روک دیا گیا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس عرضی کو خود ساختہ لارڈ آدی ویشیشور سے متعلق ایک دیگر عرضی کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ دونوں معاملے اب ایک ساتھ سنے جائیں گے۔ عدالت کے اس اقدام کو گیانواپی تنازعہ کے مختلف پہلوؤں کو مربوط انداز میں دیکھنے کی سمت ایک قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سماعت سے گیانواپی احاطے کے متنازعہ علاقوں پر ازسرنو بحث چھڑنے کا امکان ہے۔ فریقین کے وکلاء اپنے دلائل کے ساتھ تیار ہیں اور پورا ملک فیصلے کا انتظار کر رہا ہے۔






