
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد حصہ مغربی ایشیا کے ممالک سے درآمد کرتا ہے اور ملک کو ملنے والی تیل کی سپلائی کا بڑا حصہ اسی خطے سے آتا ہے۔ ایسے میں اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی یا جنگی صورتحال کے سبب اس علاقے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستان کی توانائی سلامتی، ایندھن کی دستیابی اور مجموعی معاشی استحکام پر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کا آغاز پیر کے روز ہو گیا۔ لوک سبھا میں کارروائی کے آغاز پر تعزیتی حوالوں کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا، جبکہ راجیہ سبھا میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان دیا۔
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ آج سے شروع ہو کر دو اپریل تک جاری رہے گا۔ اس دوران حکومت کی جانب سے اہم قانون سازی اور مالی سال 2026-27 کے مرکزی بجٹ سے متعلق امور پر بحث متوقع ہے۔ یہ اجلاس 28 جنوری کو صدر جمہوریہ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے ساتھ شروع ہوا تھا اور مجموعی طور پر پینسٹھ دنوں میں تیس نشستوں پر مشتمل ہے۔






