اسی دوران امریکہ کے محکمہ خارجہ نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سعودی عرب میں موجود غیر ضروری سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
ادھر ہندوستان کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا کہ ایرانی بحریہ کا جہاز آئی آر آئی ایس لوان انسانی بنیادوں پر کوچی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس کا ایک ہم شکل جہاز امریکی آبدوز کے حملے میں ڈوب گیا تھا۔ دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ کیف مشرقِ وسطیٰ میں عام شہریوں اور وہاں موجود امریکی فوجیوں کی مدد کے لیے ماہرین بھیجنے کے لیے تیار ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری اس جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے اور عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازع کس رخ اختیار کرتا ہے۔





