کانگریس نے بڑھتی ہوئی آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے 2009 کے ’نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز‘ (این اے اے کیو ایس) پر فوری نظرثانی اور اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی اس بات پر زور دیا کہ انہیں زیادہ مؤثر طریقے سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری انچارج کمیونیکیشن جے رام رمیش نے وزیراعظم نریندر مودی پر طنز کستے ہوئے کہا کہ ’’پی ایم 56 انچ کا پردہ فاش ہو گیا ہے، پی ایم 2.5 اب سچ ہے۔‘‘
جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’پی ایم 2.5 یعنی 2.5 مائیکرو میٹر یا اس سے کم قطر والا باریک مادہ پورے ملک میں سنگین ماحولیاتی اور صحت کے بحران کا باعث بن چکا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے دسمبر 2024 میں ’دی لینسیٹ پلانیٹری ہیلتھ‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کا حوالہ دیا، جس میں 2019-2009 کے درمیان 655 اضلاع کے اعداد و شمار کی بنیاد پر یہ پایا گیا کہ پی ایم 2.5 کے ارتکاز میں ہر 10 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر کے اضافے سے شرحِ اموات میں 8.6 فیصد کا اضافہ ہوتا ہے۔
جے رام رمیش کے مطابق 2025 کے ’لینسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن‘ کے تخمینے کے مطابق ہر سال تقریباً 17.2 لاکھ ہندوستانی شہری پی ایم 2.5 کے اثرات کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں، جو 2010 کے مقابلے میں 38 فیصد زیادہ ہے۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ وزارت ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی نے 2024، 2025 اور 2026 میں پارلیمنٹ کو یہ بتایا تھا کہ فضائی آلودگی کی وجہ سے ہونے والی اموات کا کوئی درست اعداد و شمار حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ سنٹر فار ریسرچ آن انرجی اینڈ کلین ایئر (سی آر ای اے) نے سنٹرل پولیوشن کنٹرول بورڈ (سی پی سی بی) کے فضائی معیار کی نگرانی کرنے والے اسٹیشنوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کا تفصیلی تجزیہ کیا ہے۔ اس تجزیے کے مطابق 238 شہروں میں سے کوئی بھی شہر ڈبلیو ایچ او کے پی ایم 2.5 کے مقررہ حفاظتی معیار پر پورا نہیں اتر رہا ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری نے کہا کہ ’’238 میں سے 204 شہروں میں پی ایم 2.5 کا ارتکاز 2009 میں این اے اے کیو ایس کے مقرر کردہ معیار سے زیادہ ہے۔ اس کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ستمبر 2021 میں اپنے اپ ڈیٹ شدہ حفاظتی معیار کا اعلان کیا تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز 2009 پر فوری نظرثانی اور اسے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان معیارات کو ہر جگہ مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے بعد ان کی نگرانی کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ، این سی اے پی کو خاص طور پر پی ایم 2.5 پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔



































