سماجوادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے پر طنز کسا ہے۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم تو چاہتے تھے کہ وہ وزیر اعظم بنیں، لیکن اب وہ راجیہ سبھا جا کر ریٹائر ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جو لوگ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں وہ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ بی جے پی کیا قدم اٹھائے گی۔
واضح رہے کہ اکھلیش یادو جمعہ (6 مارچ) کو لکھنؤ میں منعقد ایک افطار پارٹی میں شرکت کرنے کے لیے پہنچے تھے۔ جہاں انہوں نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہا کہ جو لوگ سیاست کو سمجھتے ہیں وہ پہلے روز سے جانتے ہیں کہ بی جے پی کیا کرے گی۔ پہلے بھی ہم لوگوں نے کہا تھا کہ ہم سب مل کر چاہتے تھے کہ نتیش کمار وزیر اعظم بنیں اب وہ راجیہ سبھا رکن کے طور پر ریٹائر ہوں گے۔ مغربی بنگال کے گورنر سی وی آنند بوس کے استعفیٰ پر اکھلیش یادو نے کہا کہ کون جانتا ہے کہ اس کے بعد اور کتنے استعفے ہوں گے۔ بنگال اور یوپی کے انتخاب کے بعد زیادہ استعفے ہوں گے۔
افطار پارٹی کا ذکر کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ مولانا صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں ہر روز ایک ساتھ افطار کرنے کا موقع دیا۔ یہ ہماری ہندوستانی روح کی جھلک ہے، جہاں ہم ایک دوسرے کے تہواروں اور جشن میں شامل ہوتے ہیں۔ یہ مل کر منائی جانے والی خوشی ہماری ثقافت کے اتحاد کو ظاہر کرتی ہے، جسے گنگا جمنی تہذیب کے نام سے جانا جاتا ہے، جہاں مختلف نظریات، مذاہب اور برادریاں ایک ہی زمین پر امن و سکون کے ساتھ رہتے ہیں۔
شنکرچاریہ اویمکتیشورانند معاملے پر اکھلیش یادو نے کہا کہ میں ملک کے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آج شنکراچاریہ کے ساتھ ایسا سلوک ہو رہا ہے تو کل کسی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ یہ حکومت ڈر دکھا کر کام کر رہی ہے اور لوگوں کو بے عزت کر رہی ہے۔ شنکراچاریہ کو کتنی تکلیف ہوئی ہوگی، جب ان پر جھوٹے مقدمے لگے ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کبھی کسی کی حکومت میں شنکراچاریہ کو اس طرح توہین کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے کبھی جنگ کی حمایت نہیں کی ہے۔ جنگ سے نقصان اور تباہی ہوتی ہے اور اس کے نتائج ہمیشہ افسوسناک ہوتے ہیں۔ ہم جنگ کے حق میں نہیں ہیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































