
اسرائیلی سول انتظامیہ کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے کے مختلف حصوں پر مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے پیش نظر احتیاطی اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ قدیم شہر کے اندر موجود تمام بڑے مذہبی مقامات کو عارضی طور پر بند کیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے تحت مسجد اقصیٰ کے ساتھ ساتھ مغربی دیوار اور دیگر مذہبی عبادت گاہوں میں بھی عام افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق آئندہ احکامات تک نہ تو عبادت گزاروں اور نہ ہی سیاحوں کو ان مقامات میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔ فی الحال قدیم شہر میں صرف وہی افراد داخل ہو سکتے ہیں جو وہیں رہائش رکھتے ہیں یا جن کی دکانیں اس علاقے میں واقع ہیں۔






