
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر ایس کیو آر الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر امریکہ کے ساتھ جاری مذاکرات میں خاصی پیش رفت ہو چکی تھی۔ ان کے مطابق عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کی ثالثی میں ہونے والی بات چیت کے دوران ایران نے امریکہ کی بیشتر شرائط کو قبول کر لیا تھا اور سفارتی سطح پر حل کی امید پیدا ہو گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود امریکہ نے اچانک مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا اور فوراً اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کر دیا۔ ڈاکٹر الیاس کے مطابق یہ عمل سفارت کاری کے نام پر ایک بہانہ تھا اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ طاقت کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کسی خود مختار ملک کے مرکزی قائد کو نشانہ بنانا اور کھلے طور پر حکومت کی تبدیلی کی بات کرنا عالمی اصولوں کے سراسر خلاف ہے۔






