’خامنہ ای کے قتل پر مودی خاموش کیوں؟‘راہل گاندھی نے پوچھا

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 3, 2026359 Views


لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گلوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘ کہ کیا وہ عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس موضوع پر خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور راہل گاندھی ، فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی : لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے منگل (3 مارچ) کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا اور کہا کہ ہندوستان کو ’ اخلاقی طور پر دوٹوک‘  ہونا  چاہیے۔

گاندھی نے کہا کہ مودی کو اس پر ’کھل کر بولنا چاہیے‘  کہ کیا وہ ’عالمی نظام کو تشکیل دینے کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں،‘  اور انہوں نے کہا کہ اس موضوع پر خاموشی ’دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کمزور کرتی ہے۔‘

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں گاندھی نے کہا،’ہندوستان کو اخلاقی طور پر واضح ہونا چاہیے۔ ہمیں بین الاقوامی قانون اور انسانی جانوں کے تحفظ کے حق میں بے باکی سے بولنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ ہماری خارجہ پالیسی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے -اور اس کو ہمیشہ ایک جیسا ہی رہنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا، ’وزیر اعظم مودی کو بولنا چاہیے۔ کیا وہ عالمی نظام کی تشکیل کے طریقے کے طور پر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں؟ اس وقت کی خاموشی دنیا میں ہندوستان کی ساکھ کو کم کرتی ہے۔‘

گاندھی کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب کانگریس پارلیامانی پارٹی کی چیئرپرسن سونیا گاندھی نے بھی انڈین ایکسپریس میں شائع اپنے ایک مضمون میں خامنہ ای کے قتل پر ہندوستان کی خاموشی پر سوال اٹھائے ہیں۔

مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی دشمنی کے درمیان مودی نے اب تک خامنہ ای کے قتل پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

وزیر اعظم نے 2 مارچ کو سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے سعودی خطے پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت کی تھی۔ اس سے قبل انہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے رہنماؤں سے بھی بات چیت کی تھی، جس میں انہوں نے اماراتی خطے پر حملوں کی مذمت کی اور اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو سے بات چیت میں دشمنی جلد ختم کرنے کی اپیل کی تھی۔

ان بیانوں کی طرح  ہی ہندوستان کی جانب سے عوامی تبصروں میں خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کے تحفظ پر زور دیا گیا ہے، اس کے ساتھ ہی مکالمے اور کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ’ ایک نازک خطے کو وسیع تنازعہ کی طرف دھکیل رہی ہے،‘ جس سے وہاں مقیم بڑی تعداد میں ہندوستانیوں کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا،’امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک خطے کو وسیع تنازعہ کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کروڑوں لوگ، جن میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شامل ہیں، غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ ‘

انہوں نے مزید کہا،’اگرچہ سکیورٹی خدشات حقیقی ہیں، لیکن خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے بحران کو مزید گہرا کریں گے۔ ایران پر یکطرفہ حملوں کے ساتھ-ساتھ ایران کی جانب سے دیگر مشرق وسطیٰ کے ممالک پر کیے گئے حملوں کی بھی مذمت کی جانی چاہیے۔ تشدد سے تشدد جنم لیتا ہے -مکالمہ اور تحمل ہی امن کا واحد راستہ ہیں۔‘

اس سے قبل سوموار کو کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا تھا کہ ہندوستان مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے حل کی حمایت کرتا ہے اور مغربی ایشیا میں ہندوستانیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ ممالک کے ساتھ کام کرتا رہے گا۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...