یہودیوں نے ایران میں زبردست تباہی مچائی ہوئی ہے، اور اب اس کی نظر ملیشیا پر بھی پڑ چکی ہے۔ اسرائیل کی ایک یہودی تنظیم نے ملیشیا میں تختہ پلٹ کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ یہ الزام ملیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے عائد کیا ہے۔ ابراہیم کا کہنا ہے کہ یہودی گروپ بلومبرگ کے ذریعہ بین الاقوامی میڈیا میں ملیشیا کے بارے میں منفی خبریں پھیلا رہا ہے، تاکہ امریکہ کی توجہ اس طرف کھینچی جائے۔ ابراہیم نے تختہ پلٹ کی سازش کی جانچ کرانے کی بات بھی کہی ہے۔
’دی اسٹار‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 3 مارچ کو ملیشیائی پارلیمنٹ میں بولتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ ’’میری حکومت کو گرانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ اس سازش میں ایک یہودی گروپ، ایک بین الاقوامی میڈیا اور یہاں کے کچھ اپوزیشن لیڈران ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’میں ایسا ہونے نہیں دوں گا، جلد ہی اس کی جانچ کرا کر قصورواروں کو گرفتار کرواؤں گا۔‘‘
وزیر اعظم انور ابراہیم کا کہنا ہے کہ میں نے غزہ اور ایران پر سخت رخ اختیار کیا۔ اس کی وجہ سے یہودی گروپ مجھے نشانہ بنا رہے ہیں۔ کیا غزہ اور ایران پر بولنا گناہ ہے؟ میں اس پر بولتا رہوں گا۔ جانچ کے بعد سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انھوں نے ملیشیا کے اپوزیشن کی بھی تنقید کی ہے۔ انور ابراہیم نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن کو یہودی ہی حکومت گرانے کے لیے ملے ہیں؟ ملیشیا کے عوام ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ ملیشیا میں 2020 اور 2021 میں بھی حکومت گرانے کی سازشوں کا انکشاف ہوا تھا۔
واضح رہے کہ ملیشیا ایک مسلم ملک ہے، جہاں پر 63.5 فیصد مسلم رہتے ہیں۔ ملیشیا میں اس کے بعد بودھ لوگوں کی آبادی ہے۔ یہاں پر تقریباً 18.7 فیصد بودھ ہیں۔ ملیشیا میں ہندو طبقہ کی آبادی 6.1 فیصد ہے۔ اسی طرح ملیشیا میں عیسائی طبقہ کی آبادی 9.1 فیصد ہے۔ ملیشیا پہلا ملک ہے جس نے خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی۔ ملیشیا نے کھل کر ایران کی حمایت میں آواز اٹھائی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































