
موجودہ حکومت کو یاد رکھنا چاہیے کہ اپریل 2001 میں اُس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے تہران کے سرکاری دورے کے دوران ایران کے ساتھ ہندوستان کے گہرے تہذیبی اور عصری روابط کی گرمجوشی سے توثیق کی تھی۔ اُن کے ان بیانات میں جھلکتی تاریخی وابستگی آج کی پالیسی میں نمایاں دکھائی نہیں دیتی۔
گزشتہ برسوں میں اسرائیل کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت متعدد شعبوں میں بڑھے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تہران اور تل ابیب دونوں سے روابط رکھنے والا ملک ہونے کے ناطہ ہندوستان کے پاس تحمل کی اپیل کرنے کی سفارتی گنجائش موجود ہے۔ مگر یہ گنجائش ساکھ پر منحصر ہے، اور ساکھ اصولی مؤقف سے پیدا ہوتی ہے، وقتی مصلحت سے نہیں۔
یہ محض اخلاقی سوال نہیں، بلکہ تزویراتی ضرورت بھی ہے۔ خلیجی خطے میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی مقیم ہیں۔ ماضی کے بحرانوں، خلیجی جنگ سے لے کر یمن، عراق اور شام تک، میں اپنے شہریوں کے تحفظ کی ہماری صلاحیت اس لیے ممکن ہوئی کہ ہمیں ایک خودمختار فریق سمجھا جاتا تھا، کسی بڑی طاقت کا نمائندہ نہیں۔






