
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے پیر کے روز بتایا کہ خطے میں جاری فوجی سرگرمیاں عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حالات کا سب سے زیادہ نقصان ہمیشہ کمزور اور غریب ممالک کو اٹھانا پڑتا ہے، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو عالمی منڈیوں میں بے یقینی اور عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
خلیجی خطے میں عدم استحکام کا براہ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔ پیر کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں 5.63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر جنم لے سکتی ہے۔





