اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملہ کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایران لگاتار جوابی حملے کر رہا ہے۔ اس درمیان ایران کی اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ تل ابیب میں نیتن یاہو کے دفتر اور اسرائیلی فضائیہ کمانڈر کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ساتھ آئی آر جی سی نے یہ بھی کہا ہے کہ حملہ کے بعد نیتن یاہو کی پوزیشن واضح نہیں ہے۔
آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ حملہ کے بعد اسرائیلی قیادت میں زبردست ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ کے کمانڈر کے ٹھکانے پر حملہ خیبر میزائل سے کیے جانے کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔ فضائیہ کمانڈر یا نیتن یاہو کس حال میں ہیں، اس بارے میں فی الحال کچھ بھی واضح طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال کے بعد ایران کے ذریعہ جوابی حملہ کافی تیز کر دیا گیا ہے۔ تہران اور اس کے ساتھی ملیشیا نے خلیجی ممالک میں موجود اسرائیلی و امریکی ٹھکانوں پر میزائلوں اور ڈرون سے کئی حملے کیے ہیں۔ ان حملوں میں نقصانات کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر پر حملہ بھی ایران کی ناراضگی کو ظاہر کرنے والا ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو کے دفتر پر میزائل حملہ کے دعویٰ کو اسرائیل نے پوری طرح سے خارج کر دیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ ایسا کوئی حملہ نہیں کیا گیا ہے۔



































