ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت اسرائیل کے حملے میں ہو چکی ہے۔ خامنہ ای کی موت کے بعد سے ہی دنیا بھر کے کئی ممالک میں ان کے حامی سوگ منا رہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل مسلسل ایران پر حملے کر رہے ہیں۔ ایران بھی جوابی حملے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا ہے۔ اسرائیل کے بم حملے سے تقریباً 45 سال قبل بھی خامنہ ای ایک بم دھماکے کا شکار ہوئے تھے۔ حالانکہ اس حملے میں وہ بال بال بچ گئے تھے، لیکن ان کے دائیں ہاتھ نے اس حملے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً 45 سال تک انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ سے ایران پر حکومت کی۔
1981 میں 27 جون کو دوپہر کی نماز کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای مجمع کے سامنے آئے۔ لوگ اپنے اپنے سوال لکھ رہے تھے جن کا جواب وہ خامنہ ای سے چاہتے تھے۔ خامنہ ای نے لوگوں کے سوالوں کا جواب دینا شروع کیا، وہ کہہ رہے تھے کہ خواتین پر ظلم صرف عرب معاشرے میں ہی نہیں ہوئے ہیں، بلکہ تقریباً ہر معاشرے میں ان پر ظلم کیا گیا، انہیں پڑھنے سے روکا گیا اور ساتھ ہی ساتھ انہیں آگے بڑھنے نہیں دیا گیا۔ یہ کہہ ہی رہے تھے کہ اچانک ایک دھماکہ ہوا اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔
اچانک ہوئے بم دھماکے کے باعث خامنہ ای زمین پر گر گئے۔ پاس ہی کھڑے ان کے محافظ فوری طور پر مدد کے لیے پہنچے اور انہیں مسجد سے باہر نکالنے کی کوشش کی جانے لگی۔ حالانکہ مسجد بہت چھوٹی ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو رہی تھی۔ یہ بم دھماکہ پاس میں ہی رکھے ریڈیو ریکارڈر میں ہوا تھا، جس کے بعد ہر کوئی خوفزدہ ہو گیا تھا۔ مسجد سے باہر نکالنے کے بعد انہیں اسپتال لے جایا گیا۔ پورے راستے وہ وقفے وقفے سے ہوش میں آتے تھے اور آہستہ آہستہ کچھ کہتے تھے۔ اس عالم میں بھی خامنہ ای کے لبوں پر کلمۂ شہادت جاری تھا۔ محافظ نے پیجر کے ذریعے ایک خفیہ کوڈ بھیجا، جس میں کہا گیا کہ ’گارڈین آف دی سیون‘ (ساتواں نگہبان) شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
بم دھماکے کے باعث خامنہ ای شدید زخمی ہو گئے تھے اور ان کے جسم کے ہر حصے سے خون بہہ رہا تھا۔ یہاں تک کہ ڈاکٹروں کو بھی ان کے بچنے کی بہت کم امید تھی۔ انہیں اسپتال کے پچھلے دروازے سے اندر لے جایا گیا اور فوری طور پر آپریشن تھیٹر پہنچایا گیا۔ ان کے جسم کے دائیں حصے میں چھرے اور ریڈیو کے ٹکڑے پیوست ہو چکے تھے۔ سینے کا ایک حصہ بری طرح جھلس چکا تھا۔ دایاں ہاتھ سوج گیا تھا اور کام نہیں کر رہا تھا، یہاں تک کہ ہڈیاں باہر سے صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ سرجری کے دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب ڈاکٹروں نے سرجری کا کام روک دیا۔ ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کا انتقال ہو گیا ہے، کیونکہ ان کے جسم میں کوئی حرکت باقی نہیں رہی تھی۔ تاہم کچھ دیر بعد دوبارہ جسم میں حرکت شروع ہوئی اور آپریشن دوبارہ شروع کر دیا گیا۔
سرجری کے بعد ان کے گلے میں سانس لینے کی ٹیوب لگی تھی، اس لیے وہ بول نہیں پا رہے تھے، پھر آہستہ آہستہ ان کی آواز بحال ہو گئی تھی۔ اسی وقت انہیں احساس ہو گیا تھا کہ ان کا دایاں ہاتھ اب کام نہیں کر پائے گا۔ انہوں نے سب سے پہلے اپنے بائیں ہاتھ سے 2 سوال لکھ کر پوچھے۔ ان میں سے پہلا یہ تھا کہ کیا مسجد میں ان کے ساتھیوں میں سے کوئی زخمی ہوا؟ جواب ملا کہ نہیں، سب محفوظ ہیں۔ جب ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ان کا دایاں ہاتھ شاید اب کبھی کام نہ کر سکے، تو اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے ہاتھ کی ضرورت نہیں، اگر میرا دماغ اور زبان کام کرتے رہیں تو وہی کافی ہے۔ اس حملے کے بعد 45 سال تک وہ ایران کی حکومت اپنے اکلوتے ہاتھ سے ہی چلاتے رہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































