بنگال میں ایس آئی آر پر الیکشن کمیشن کا دو روزہ اجلاس، سکیورٹی کے وسیع انتظامات میں مصروف الیکشن کمیشن

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 2, 2026361 Views


الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے میٹنگ بلائی ہے۔

الیکشن کمیشن، تصویر یو این آئیالیکشن کمیشن، تصویر یو این آئی

i

user

الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخاب کی تیاریوں کے متعلق پیر اور منگل کو اہم جائزہ اجلاس منعقد کرے گا۔ یہ میٹنگیں ریاست میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل اور حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلائی گئی ہیں۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق عدالتی فیصلے کے لیے بھیجے گئے ناموں کو چھوڑ کر حتمی ووٹر لسٹ شائع کی جا چکی ہے، جس کے بعد انتخابی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی میٹنگیں 2 مرحلوں میں ہوں گی، جس کی شروعات کی پیر کی صبح 11 بجے سے ہوگی۔ جہاں اس کے اعلیٰ افسران مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) منوج کمار اگروال، ایڈیشنل سی ای او، جوائنٹ سی ای او، ڈپٹی سی ای او، ضلع مجسٹریٹ (جو ضلعی الیکشن آفیسر بھی ہیں) اور ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ ایک ورچوئل میٹنگ کریں گے۔ اس کے بعد منگل کو میٹنگوں کا دوسرا مرحلہ ہوگا، جس میں نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران، سی ای او، ریاست کے نوڈل پولیس افسران (ایس این پی او) اور ریاست میں انتخابات کے لیے مختلف مرکزی سکیورٹی اور تحقیقاتی ایجنسیوں کے کوآرڈینیٹنگ افسران ورچوئل طریقے سے شرکت کریں گے۔

پیر کو ہونے والی میٹنگ میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ افسران مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی 240 کمپنیوں کی موجودہ تعیناتی کا جائزہ لے سکتے ہیں، جنہیں اتوار سے ہی ریاست میں تعینات کیا جا چکا ہے۔ سی ای او کے دفتر کے ذرائع نے بتایا کہ ’’ای سی آئی کے افسران ممکنہ طور پر اس بارے میں معلومات حاصل کریں گے کہ تعینات کی گئی سی اے پی ایف کی یہ 240 کمپنیاں علاقے پر کنٹرول قائم کرنے اور ان علاقوں کی جغرافیائی صورتحال سے واقف ہونے کے لیے کس طرح استعمال کی جا رہی ہیں۔‘‘

سی ای او کے دفتر نے یہ بھی کہا کہ پیر کی میٹنگ میں 10 مارچ کو دوسرے مرحلے کے لیے 240 اضافی کمپنیوں کی تعیناتی پر بھی تبادلہ خیال کیا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی توقع ہے کہ کمیشن کی جانب سے الیکشن کمیشن کے مقرر کردہ عدالتی حکام کے ذریعے تقریباً 60 لاکھ ووٹرس کی دستاویزات کے عدالتی تصفیہ کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

منگل کو ہونے والی میٹنگ کا بنیادی ایجنڈا سی اے پی ایف کے مؤثر ترین استعمال کے لیے ریاستی اور مرکزی ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل پیدا کرنے کے طریقوں پر غور کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی رقم، شراب اور منشیات کے غیر قانونی استعمال کو روکنے کے لیے مختلف ریاستی اور مرکزی انٹیلی جنس-کم-انفورسمنٹ ایجنسیوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنا اور بین الاقوامی و بین ریاستی سرحدوں سے متصل علاقوں میں سیکورٹی کو یقینی بنانا بھی شامل ہوگا۔

حالانکہ پولنگ کی تاریخوں کے اعلان اور ضابطہ اخلاق کے نفاذ کو لے کر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے۔ پہلے یہ طے کیا گیا تھا کہ پولنگ کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے پہلے ہفتے میں، ہولی کے تہوار (4 مارچ) کے فوراً بعد کر دیا جائے گا۔ لیکن ووٹرس کی دستاویزات پر جاری عدالتی کارروائی کے باعث، اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پولنگ کی تاریخوں کا اعلان مارچ کے دوسرے ہفتے میں کیا جائے گا۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...