منریگا ادائیگی میں تاخیر اور چوری چورا پروگرام منسوخی پر کانگریس کا حکومت پر حملہ

AhmadJunaidJ&K News urduMarch 1, 2026359 Views


یوپی کانگریس نے منریگا مزدوروں کے 1600 کروڑ روپے بقیہ ادائیگی اور دلتوں کے اعزاز میں طے شدہ پروگرام کی اجازت منسوخی پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ادائیگی نہ ہونے پر تحریک کی وارننگ دی

<div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر اجے رائے / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>کانگریس لیڈر اجے رائے / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

لکھنؤ: اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں اتوار کو منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں ریاستی صدر اجے رائے اور آل انڈیا کانگریس کے درج فہرست ذات محکمہ کے چیئرمین آر پی گوتم نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ رہنماؤں نے منریگا مزدوروں کی بقیہ ادائیگی اور گورکھپور کے چوری چورا میں مجوزہ پروگرام کی اجازت منسوخ کیے جانے پر حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے۔

آر پی گوتم نے الزام عائد کیا کہ وہ گورکھپور کے چوری چورا میں منعقد ہونے والے ’’دلت سمان سمر وہ‘‘ میں شرکت کے لیے لکھنؤ ہوائی اڈے سے روانہ ہونے والے تھے، لیکن پولیس اہلکاروں نے انہیں ہوائی اڈے سے باہر نکلتے ہی روک دیا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ہولی کے پیش نظر پروگرام کی اجازت راتوں رات منسوخ کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقاعدہ اجازت حاصل کرنے کے باوجود جلسے کو روکنا جمہوری حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت دلتوں، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے مسائل اٹھائے جانے سے گھبرا رہی ہے اور تہوار کو بہانہ بنایا جا رہا ہے۔

ریاستی صدر اجے رائے نے منریگا مزدوروں، کارکنوں، مستریوں، سپلائرز اور خواتین میٹ کے واجبات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہولی سے قبل بھی انہیں مزدوری ادا نہیں کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غیر ہنر مند اور ہنر مند مزدوری کے ساتھ ساتھ مواد مد میں تقریباً سولہ سو کروڑ روپے کی رقم زیر التوا ہے۔ ان کے مطابق سال 2021 میں منریگا عملے کے لیے جن تعطیلاتی سہولتوں کا اعلان کیا گیا تھا، ان پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا۔

اجے رائے نے انتباہ دیا کہ اگر دس دن کے اندر ادائیگی نہ کی گئی تو کانگریس ریاست بھر میں تحریک شروع کرے گی۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ عوام حکومت کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق کو بخوبی سمجھ چکی ہے اور مناسب وقت پر اس کا جواب دیا جائے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...