
آیت اللہ علی خامنہ ای (فائل فوٹو: اے پی)
نئی دہلی: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے وسیع فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، ایران کی سرکاری میڈیا نے اتوار ( 1 مارچ) کی صبح خامنہ ای کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کی ہے۔ اس واقعہ نے اسلامی جمہوریہ کے مستقبل پر شکوک شبہات پیداکر دیے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کے خطرے بڑھا دیے ہیں۔
واضح ہو کہ امریکہ اور اسرائیل نے سنیچر کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا تھا۔ ایران نے اس حملے کاجواب اسرائیل اور چار خلیجی عرب ممالک—بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات— جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں کی جانب میزائل اور ڈرون لانچ کرکے دیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر خامنہ ای کی موت سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے لکھا،” خامنہ ای، جو تاریخ کے بدترین لوگوں میں سے ایک تھے، اب مر چکے ہیں۔ یہ صرف ایران کے عوام کے لیے ہی انصاف نہیں، بلکہ ان عظیم امریکیوں اور دنیا کے کئی ممالک کے لوگوں کے لیے بھی انصاف ہے، جنہیں خامنہ ای اور ان کے خونی گروہ نے مار ڈالا یا زخمی کردیا۔“
انہوں نے مزید کہا،”وہ ہماری انٹلی جنس اور جدید ترین ٹریکنگ سسٹمز سے بچ نہیں سکے، اور اسرائیل کے ساتھ مل کر کیے گئے آپریشن میں نہ وہ اور نہ ہی ان کے ساتھ مارے گئے دیگر رہنما کچھ کر سکے۔“
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ یہ ایران کے عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا اب تک کا سب سے بڑا موقع ہے۔
انہوں نے مزید لکھا، ”ہمیں سننے میں آ رہا ہے کہ ان کے کئی آئی آر جی سی، فوجی افسران اور دیگر سکیورٹی اور پولیس اہلکار اب لڑنا نہیں چاہتے اور ہم سے تحفظ (امیونٹی) مانگ رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کل رات کہا تھا—ابھی وہ تحفظ حاصل کر سکتے ہیں، لیکن بعد میں انہیں صرف موت ملے گی۔ امید ہے کہ آئی آر جی سی اور پولیس پرامن طور پر ایران کے محب وطن شہریوں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے اور ایک اکائی کی طرح ملک کو اس عظمت کی طرف واپس لے جائیں گے جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ عمل جلد شروع ہونا چاہیے کیونکہ صرف خامنہ ای کی موت ہی نہیں، بلکہ ملک ایک ہی دن میں بڑی حد تک تباہ ہو چکا ہے، حتیٰ کہ تقریباً مٹ چکا ہے۔“
امریکی صدر نے مزید کہا کہ بھاری اور انتہائی درست بمباری پورے ہفتے یا جب تک ضروری ہو بغیر رکے جاری رہے گی، تاکہ امریکہ پورے مشرق وسطیٰ میں اور درحقیقت دنیا میں امن کے اپنے ہدف کو حاصل کر سکے۔
اس سے قبل سنیچر کی شام کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ٹیلی وژن خطاب میں کہا تھا، ”ہم نے تہران کے عین وسط میں تاناشاہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو تباہ کر دیا ہے۔ اس بات کے کئی اشارے ہیں کہ آمر اب زندہ نہیں رہے۔“
ایران کے جوابی ردعمل کا وعدہ
دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کا ایک بیان بھی سامنے آیا ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ وہ امریکی اڈوں اور اسرائیل پر حملہ کریں گے۔
اس بیان میں کہا گیا ہے، ”اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کی تاریخ کا سب سے خطرناک حملہ چند لمحوں میں مقبوضہ علاقوں اور امریکی دہشت گرد اڈوں کی طرف شروع ہوگا۔“
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق، خامنہ ای کی موت پر ملک میں 40 دن کا سوگ منایا جائے گا۔
غورطلب ہے کہ اس حملے نے ایران میں امریکی مداخلت کا ایک نیا باب کھول دیا ہے، جس سے جوابی تشدد اور ایک وسیع جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
تاہم، یہ ایک ایسے امریکی صدر کی جانب سے فوجی طاقت کا حیران کن مظاہرہ تھا جو ”امریکہ فرسٹ“کی پالیسی پر اقتدار میں آئے تھے اور ہمیشہ جنگ سے ”دور“ رہنے کا عہدکیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ گزشتہ آٹھ ماہ میں ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کے اس دوسرے حملے میں خامنہ ای کی ہلاکت سے ایران میں قیادت کا سوال پیدا ہونا یقینی ہے، کیونکہ ان کا کوئی معروف جانشین نہیں ہے اور اہم پالیسی معاملوں میں ان کا فیصلہ ہی حتمی سمجھا جاتا تھا۔ وہ ایران کی حکمرانی اور انقلابی گارڈ—جو اقتدار کے دو اہم مراکز ہیں—کی قیادت کر رہے تھے۔
نامعلوم ذرائع کے حوالے سے نیم سرکاری فارس خبر رساں ایجنسی، جسے انقلابی گارڈ کے قریب سمجھا جاتا ہے، نے بتایا کہ خامنہ ای کے کئی قریبی رشتہ دار بھی مارے گئے، جن میں ایک بیٹی، داماد، بہو اور پوتا شامل ہیں۔





