پاکستانی ٹیم ’ٹی-20 عالمی کپ 2026‘ سے بالآخر باہر ہو گئی۔ اس کا سیمی فائنل میں پہنچنے کا خواب آج اس وقت چکنا چور ہو گیا جب سری لنکا کے خلاف اس نے جیت تو حاصل کی، لیکن محض 5 رنوں سے۔ اسے سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے 65 رنوں سے جیت حاصل کرنی تھی، لیکن پاکستانی گیندبازوں نے مایوس کیا۔ اس میچ کے نتیجہ سے ’گروپ-2‘ میں نیوزی لینڈ کو فائدہ پہنچا، جو بہتر رَن ریٹ کی وجہ سے سیمی فائنل میں پہنچنے والی دوسری ٹیم بن گئی ہے۔
سری لنکا کے پلیکیلے میں ’سپر-8‘ راؤنڈ کے اپنے آخری میچ میں پاکستان کو کم از کم 65 رنوں کے بڑے فرق سے جیت کی ضرورت تھی۔ سلمان آغا کی ٹیم نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 20 اوورس میں 8 وکٹ کے نقصان پر 212 رنوں کا پہاڑ کھڑا بھی کر دیا تھا، لیکن جس فاصلہ سے جیت حاصل کرنا تھا، اسے یقینی نہیں بنا سکی۔ پاکستان کو ضرورت اس بات کی تھی کہ سری لنکا کو 147 رنوں پر روک دے، تاکہ رَن ریٹ نیوزی لینڈ سے بہتر ہو جائے۔ حالانکہ سری لنکا نے آخر میں شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 اوورس میں 207 رنوں تک پہنچ گئی۔ آخر کی 2 گیندوں پر سری لنکا کو جیت کے لیے 6 رنوں کی ضرورت تھی، لیکن شاہین آفریدی کی 2 ڈاٹ گیندوں نے کسی طرح پاکستان کو 5 رنوں سے جیت دلا دی۔
پاکستان کی طرف سے آج ایک بار پھر صاحب زادہ فرحان نے بہترین اننگ کھیلی۔ انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں دوسری سنچری لگائی، جو ایک ریکارڈ ہے۔ آج تک کسی بھی بلے باز نے ایک ٹی-20 عالمی کپ میں 2 سنچری نہیں بنائی تھی۔ سلامی بلے باز فخر زماں نے ان کا بہترین ساتھ دیا، اور دونوں نے مل کر 176 رنوں کی شراکت داری کی۔ ایک وقت لگ رہا تھا کہ پاکستانی ٹیم آرام سے 250-240 رنوں تک پہنچ جائے گی، لیکن فخر زماں کے آؤٹ ہوتے ہی جیسے وکٹوں کی پت جھڑ شروع ہو گئی۔ آخر کے 4 اوورس میں ٹیم محض 35 رن بنا سکی اور 7 وکٹ بھی گنوا دیے۔ فخر اور فرحان کے علاوہ کوئی بھی ایسا بلے باز نہیں تھا جو دوہرے ہندسے تک پہنچا ہو۔
سری لنکا کی بلے بازی جب شروع ہوئی تو پاکستانی گیندباز نسیم شاہ نے پتھم نسانکا کو دوسرے ہی اوور میں پویلین بھیج کر امیدیں جگا دی تھیں۔ 33 کے اسکور پر سری لنکا کا دوسرا وکٹ بھی گر گیا تھا۔ لیکن اس کے بعد سری لنکائی بلے بازوں نے سنبھل کر کھیلنا شروع کیا اور خراب گیندوں پر رن بھی بنائے۔ اسپنر ابرار احمد نے 3 کھلاڑیوں کو پویلین بھیج کر پاکستانی خیمہ میں امیدیں پھر باندھ دیں، کیونکہ 12 اوور میں سری لنکا نے 5 وکٹ کے نقصان پر 101 رن بنائے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پاکستانی گیندباز کوئی کرشمہ دکھانے کو تیار ہیں، لیکن سری لنکائی کپتان داسُن شناکا اور پون رتنایکے نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ پہلے تو دونوں نے سری لنکا کا اسکور 147 رنوں کے پار پہنچایا، پھر طوفانی انداز میں بلے بازی شروع کر دی۔ رتنایکے 58 رن بنا کر آؤٹ ہوئے اور شناکا 76 رن بنا کر ناٹ آؤٹ لوٹے۔ کپتان نے یہ رن محض 31 گیندوں پر بنائے اور 8 چھکے لگائے۔ انھوں نے شاہین آفریدی کے ذریعہ پھینکے گئے آخری اوورس کی ابتدائی 4 گیندوں پر 22 رن بنا دیے تھے، لیکن آخر کی 2 گیندوں پر کوئی رن نہیں بنا سکے، جس کی وجہ سے سری لنکا کو 5 رنوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔



































