’جمہوری مخالفت کو دہشت گردی ٹھہرانا جمہوریت کا قتل‘، یوتھ کانگریس کارکنان پر درج دفعات کو کانگریس نے بتایا ظالمانہ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 26, 2026364 Views


کانگریس لیڈر ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ مظاہرین پر لگائی گئیں دفعات دلیلوں سے میل نہیں کھاتیں۔ یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف کسی طرح کے تشدد یا مجرمانہ منشا کے ثبوت نہیں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز/ویپن</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

i

user

کانگریس نے اے آئی سمٹ کے دوران پُرامن مظاہرہ کرنے والے یوتھ کانگریس کارکنان پر درج مجرمانہ دفعات کو قانون کا ظالمانہ استعمال قرار دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ پُرامن جمہوری مخالفت کو دہشت گردی یا سازش کے زمرہ میں رکھنا جمہوریت کا ایک طرح سے قتل ہے۔

کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ مظاہرین پر لگائی گئیں دفعات دلیلوں سے میل نہیں کھاتی ہیں۔ یوتھ کانگریس کارکنان کے خلاف کسی طرح کے تشدد یا مجرمانہ منشا کے ثبوت نہیں ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’بھارت منڈپم‘ ایک پبلک پلیس ہے، نہ کہ کسی کی ذاتی رہائش۔ اس کا موازنہ کسی کے گھر یا بیڈروم سے کرنا نامناسب ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’حکومت سے جواب مانگنا دہشت گردی نہیں ہے اور احتجاج کے طور طریقوں کو فوجداری جرم کے زمرہ میں نہیں رکھا جا سکتا۔‘‘

سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ ڈاکٹر سنگھوی نے دہلی پولیس کے ذریعہ عائد کردہ دفعات کی فہرست شیئر کرتے ہوئے ایک ایک کر ان پر سوال اٹھائے۔ انھوں نے کہا کہ دفعہ 121 کے تحت مرضی سے چوٹ یا سنگین چوٹ پہنچانے کا الزام ہے۔ لیکن ایسا کب اور کہاں ہوا؟ دفعہ 132 کے تحت عوامی خادم کو فرائض سے روکنے کے لیے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کس عوامی خادم کے ساتھ ایسا ہوا؟ دفعہ 221 کے تحت عوامی خادم کے کاموں میں رخنہ ڈالنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کارکنان نے مظاہرہ کیا، لیکن رخنہ کہاں ڈالا گیا؟ مقدمہ میں لگائی گئیں دفعات 153اے اور 197 پر سنگھوی نے طنز کستے ہوئے کہا کہ کیا کسانوں اور روزگار کے ایشوز اٹھانا قومی اتحاد کے لیے خطرہ ہے؟ کیا نوجوانوں کے مظاہرہ سے گروپوں کے درمیان دشمنی پیدا ہوئی؟ انھوں نے اس معاملہ میں ’کامن انٹنشن‘ اور ’کریمنل کانسپریسی‘ کو بھی جوڑنے پر سوالات اٹھائے۔

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ آج کے ہندوستان میں پرامن مظاہرہ کرنا ہی سب سے بڑا جرم بن گیا ہے۔ حکومت جنوبی کوریا جیسی تاناشاہی چلا رہی ہے اور عدم اتفاق کو غداری و سوالات کو سازش بتایا جا رہا ہے۔ مودی حکومت کی گزشتہ 11 سالہ حکومت میں احتجاجی مظاہروں کو کچلنے کی مثالیں شمار کراتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اپنے مستقبل کا مطالبہ کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھیاں چلائی گئیں۔ بی جے پی لیڈر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف آواز اٹھانے والی بیٹیوں کو سڑکوں سے گھسیٹ کر ہٹایا گیا۔ کسانوں کو ملک مخالف کہہ کر ان پر آنسو گیس و ربڑ کی گولیاں داغی گئیں۔ کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ جب اقتدار خود کو ملک سمجھنے لگے اور عدم اتفاق کو دشمن، تب جمہوریت مر جاتا ہے۔ انھوں نے ایک ساتھ 150 اراکین پارلیمنٹ کی معطلی کو جمہوریت کی تاریخ میں سیاہ باب قرار دیا اور حزب اختلاف کے قائد کو بولنے سے روکے جانے پر بھی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔

پریس کانفرنس میں ڈاکٹر سنگھوی نے بھروسہ ظاہر کیا کہ عدلیہ اس پورے معاملے کا مجموعی نظریہ سے نوٹس لے گی۔ انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی‘ اور ’ملک غداری‘ جیسے الفاظ کا استعمال پوری طرح غلط ہے۔ مودی حکومت جتنا زیادہ ان نوجوانوں کی آواز کو دبائے گی اور اسے سنسنی خیز بنائے گی، ان نوجوانوں کے ایشوز اتنے ہی ابھر کر سامنے آئیں گے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...