’روح افزا‘ کو سپریم کورٹ نے مانا ’فروٹ ڈرنک‘، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ منسوخ، اب لگے گا صرف 4 فیصد وَیٹ

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 25, 2026363 Views


سپریم کورٹ نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں روح افزا کو نان-فروٹ (بغیر پھل والا) اور مصنوعی اجزاء سے تیار کردہ مشروب قرار دیتے ہوئے زیادہ وَیٹ لگانے کی بات کہی گئی تھی۔

روح افزا، علامتی تصویر آئی اے این ایسروح افزا، علامتی تصویر آئی اے این ایس

i

user

سپریم کورٹ نے بدھ کو ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کے مشہور شربت ’روح افزا‘ کے حوالے سے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے روح افزا کو فروٹ ڈرنک مانتے ہوئے کہا ہے کہ ’’روح افزا کو فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ کے زمرے میں رکھا جائے گا اور اس پر 12.5 فیصد کے بجائے صرف 4 فیصد وَیٹ لگے گا۔‘‘ واضح رہے کہ یہ فیصلہ اترپردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ، 2008 (یوپی وَیٹ ایکٹ) کے تحت ٹیکس کے تعین سے متعلق ہے۔

جسٹس بی وی ناگرتھنا اور آر مہادیون کی بنچ نے کہا کہ کئی ریاستوں میں روح افزا کو پہلے سے ہی رعایتی در پر ٹیکس کے دائرے میں رکھا گیا ہے، جس سے ہمدرد کی دلیل مضبوط ہوتی ہے۔ بنچ نے مانا کہ مصنوعات کو فروٹ ڈرنک ماننے کی تشریح نہ تو مصنوعی تھی اور نہ ہی غلط تھی بلکہ تجارتی طور پر مستند اور حقیقی تھی۔

عدالت نے کہا کہ روح افزا کو ایکٹ کے شیڈول-2 کے اندراج 103 کے تحت فروٹ ڈرنک یا پروسیسڈ فوڈ پروڈکٹ کے طور پر درجہ بند کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے متعلقہ تشخیصی سال کے دوران یہ مصنوعات 4 فیصد کی رعایتی وَیٹ شرح پر ٹیکس کے قابل ہو گی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کی اپیل منظور کر لی اور الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس میں روح افزا کو نان-فروٹ (بغیر پھل والا) اور مصنوعی اجزاء سے تیار کردہ مشروب قرار دیتے ہوئے زیادہ وَیٹ لگانے کی بات کہی گئی تھی۔

دراصل یہ تنازعہ ہمدرد (وقف) لیبارٹریز کے مقبول ڈرنک کنسنٹریٹ شربت روح افزا کے اتر پردیش ویلیو ایڈڈ ٹیکس ایکٹ، 2008 کے تحت ٹیکس کی درجہ بندی سے پیدا ہوا تھا۔ یہ تنازعہ اس بات سے متعلق تھا کہ کیا پروڈکٹ کو یوپی وَیٹ ایکٹ کے شیڈول-2 کے پارٹ اے کی انٹری 103 کے تحت 4 فیصد ٹیکس کے قابل فروٹ ڈرنک/پروسیسڈ فروٹ مانا جائے یا شیڈول-5 میں دیگر اشیاء کی انٹری کے تحت 12.5 فیصد ٹیکس کے قابل غیر درجہ بند شے (کموڈٹی) مانا جائے۔

واضح رہے کہ ٹیکس کے سال 08-2007 اور 09-2008 کے لیے، ہمدرد نے روح افزا کی فروخت پر 4 فیصد کی کم شرح سے وَیٹ ادا کیا، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ پروسیسڈ یا محفوظ شدہ پھل، فروٹ اسکوائش، فروٹ ڈرنک اور فروٹ جوس کے زمرے میں آتا ہے۔ ٹیکس افسران اس سے متفق نہیں تھے اور انہوں نے پروڈکٹ کو زیادہ وَیٹ کے لیے ایک غیر درجہ بند شے قرار دیا۔ فرسٹ اپیلٹ اتھارٹی اور کمرشل ٹیکس ٹریبونل کے سامنے ہمدرد کی اپیلیں مسترد کر دی گئیں، ٹریبونل نے کہا کہ عام اور تجارتی زبان میں اس پروڈکٹ کو فروٹ ڈرنک کے بجائے شربت سمجھا جاتا ہے۔

جولائی 2018 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ہمدرد کی جانب سے دائر کردہ ریویو پٹیشن کو مسترد کر دیا اور ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ ہائی کورٹ نے عام بول چال کے پیمانے پر بہت زیادہ بھروسہ کیا اور کہا کہ فروٹ جوس یا فروٹ ڈرنک مانگنے والے صارفین کو روح افزا نہیں دیا جائے گا اور اس کے برعکس بھی یہی ہوگا۔

ہمدرد نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا۔ سپریم کورٹ نے ٹیکس افسران اور ہائی کورٹ کے دلائل کو مسترد کر دیا اور فیصلہ ہمدرد کے حق میں سنایا۔ عدالت نے کہا کہ ایک ساتھ پیش کردہ نتائج اپیل سے محفوظ نہیں ہیں۔ عدالت نے پایا کہ وہ نتائج قانون میں واضح طور پر غلط فہمی کی وجہ سے غلط تھے اور مالیاتی درجہ بندی کو کنٹرول کرنے والے طے شدہ اصولوں کے غلط استعمال پر مبنی تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...