
تصویر: سوشل میڈیا
نئی دہلی: گزشتہ سال 2025 کے فروری مہینے میں دہلی اسمبلی انتخابات میں 27 سال کے طویل انتظار کو ختم کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کامیابی حاصل کی تھی۔ پارٹی نے 70 میں سے 48 نشستیں جیت کر ایک دہائی سے بر سر اقتدار عام آدمی پارٹی (عآپ) کو باہر کا راستہ دکھایا تھا۔
ریکھا گپتا کی قیادت والی بی جے پی حکومت نے حال ہی میں اپنے ایک سالہ دور اقتدار کی تکمیل پر رپورٹ کارڈ جاری کیا۔ انہوں نے اپنی حکومت کو ’وعدوں کی نہیں بلکہ کام کی حکومت‘قرار دیا۔ ساتھ ہی کہا کہ ان کی حکومت نے ابتدا سے ہی ’کاغذ کم، کام زیادہ ‘کے اصول پر کام کیا ہے اور آج دہلی میں پوسٹر یا ’ٹوئٹ‘ کی سیاست نہیں، بلکہ زمین پر نظر آنے والا کام ترجیحات میں ہے۔
تصویر بہ شکریہ: بی جے پی
سرکاری دعوے سے قطع نظر حقیقت میں راجدھانی کی زمین پر اور یہاں رہنے والے مختلف طبقات کے لوگوں کے لیے اس ایک سال میں کیا تبدیلی آئی ہے، یہ جاننے کے لیے دی وائر نے نوجوانوں، خواتین اور بزرگوں سے بات چیت کی…
دہلی کے سنگم وہار علاقے میں رہنے والی گھریلو خاتون شبنم بتاتی ہیں کہ یہاں ایک سال میں حالات مزید بدتر ہوئے ہیں۔ میٹرو کے کام کی وجہ سے بدرپور-مہرولی روڈ پر لگنے والا ٹریفک جام اور بڑھ گیا ہے۔ سڑکیں کھود کر چھوڑ دی گئی ہیں۔ گڑھوں کی درست مرمت کا کوئی کام نہیں ہو رہا۔ کورا تک سڑکوں پر اور لوگوں کے گھروں کے سامنے بکھرا پڑا ہے۔
سنگم وہار میں سڑک کنارے پڑا کچرا۔
شبنم مزید کہتی ہیں،’حکومت بدلنے کے بعد کئی مہینوں تک کوڑے کی گاڑی نہیں آئی، کہیں صفائی نہیں ہوئی کیونکہ نئے کنٹریکٹر کے لیے ٹینڈر نہیں نکالا۔ اس کے علاوہ پانی کا مسئلہ، جو پہلے گرمیوں میں عام تھا، اس بار سردیوں میں بھی برا حال رہا۔ جل بورڈ کے ٹینکرکا پتہ ہی نہیں ہے، کہاں آتا ہے، کب چلاجاتا ہے ۔ آتا بھی ہے یا نہیں۔‘
یہ صرف شبنم کی شکایتیں نہیں ہیں، یہاں رہنے والے درجنوں افراد نے کوڑے، گڑھے اور سڑک – پانی کے مسائل کا ذکر کیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد پانی کی بربادی اور چوری کے مسئلے کا حل نکالنےکے لیے ریکھا گپتا حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ 1,111 جی پی ایس والے پانی کے ٹینکر چلانے جا رہی ہے، جو پوری دہلی میں گھومیں گے۔ لیکن اس کے باوجود لوگوں کی مشکلات اور بے ضابطگیوں پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
پانی اور خستہ حال سڑکوں کا مسئلہ
ویسٹ دہلی کے روہنی علاقے میں رہنے والی 32 سالہ سواتی بتاتی ہیں کہ ان کے علاقے میں بھی پانی کا مسئلہ درپیش ہے۔ پہلے صبح سات بجے اور شام سات بجے سپلائی کا پانی آتا تھا، لیکن اب کبھی آتا ہے، کبھی آتا بھی نہیں ہے۔ پانی بھی اتنا گندا آ رہا ہے کہ بغیر آر او کے پینے کے قابل نہیں رہا۔ پانی میں مٹی کے ساتھ بدبو بھی آتی ہے۔
پانی کے ٹینکر کو ہری جھنڈی دکھاتیں وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا۔ تصویر بہ شکریہ: بی جے پی
معلوم ہو کہ دہلی میں آلودہ پانی کی فراہمی پر دہلی ہائی کورٹ اور این جی ٹی کئی بار ناراضگی ظاہر کر چکے ہیں۔
سواتی گروگرام کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں کام کرتی ہیں اور اکثر رات کو انہیں چھوڑنے آنے والی کیب خراب سڑک کی وجہ سے ان کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر پہلے ہی چھوڑ دیتی ہے۔ رات کے وقت آوارہ کتے اور سنسان گلی اکثرانہیں ڈراتے ہیں۔ وہ سوال اٹھاتی ہیں کہ اگرانہیں کسی دن کچھ ہو جائے، تو اس کا ذمہ داری کون ہوگا؟
وہ کہتی ہیں،’یہاں ایک ہی روڈ کومعلوم نہیں کتنی بار توڑا جائے گا۔ کبھی بجلی کے تار کے نام پر، کبھی گیس پائپ لائن کے نام پر تو کبھی کسی اور وجہ سے۔ کل ملاکر سڑک کھود تو دی جاتی ہے،لیکن اس کی مرمت کا کام جو پہلے ایک آدھ دن میں شروع کر دیا جاتا تھا، وہ اب مہینوں بعد بھی شروع نہیں ہوتا۔ کوئی کیب آنے کو تیار نہیں ہوتی۔ کئی گلیوں میں اسٹریٹ لائٹس تک نہیں ہیں۔ ‘
روہنی سیکٹر 7 کی خستہ حال سڑک۔
معلوم ہو کہ حال ہی میں 10 فروری کو روہنی کے سیکٹر 32 کے بیگم پور علاقے میں کھلے نالے میں گرنے سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی تھی۔ دہلی کے دیگر علاقوں سے بھی اس طرح کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
’تعلیمی نظام میں آر ایس ایس کے اسباق ‘
دہلی کے مصروف ترین بازاروں میں سے ایک لاجپت نگر سے کچھ آگے بھوگل میں رہنے والی سدھا دو چھوٹے بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے بچے پاس کے ہی سرکاری اسکول میں پڑھتے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اب دہلی سرکار کے اسکولوں میں وہ بات نہیں رہی، جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ پہلے سسٹم زیادہ سلیقے سے کام کرتا تھا، اساتذہ بھی بچوں کی ہر چیز پر گہری نظر رکھتے تھے اور والدین کو پوری جانکاری دیتے تھے، لیکن اب وہ ماحول نہیں ہے۔
وہ ایک دلچسپ بات بتاتی ہیں کہ گزشتہ دسمبر میں پہلی جماعت کے بچوں کو دہلی حکومت کی جانب سے ایک بھاری بھرکم بُک لیٹ ورک بُک کے طور پر تقسیم کی گئی تھی۔ اس کے ہر صفحے پر حکومت کا بڑا سا اشتہار اور آخر میں چھوٹے سے سوال ہوتے تھے، جیسےپیڑوں میں پانی ڈالنا صحیح ہے یا غلط؟
سدھا کے مطابق،’اتنے چھوٹے بچوں کو آر ایس ایس کی تاریخ اور اس سے وابستہ لوگوں کے بارے میں بتایا جا رہا ہے۔ ان کی بڑی بڑی تصویریں بُک لیٹ پر چھاپی جا رہی ہیں۔ انہیں ہندو دھرم کی باتیں بڑھا چڑھا کر بتائی جا رہی ہیں۔ یہ حکومت تعلیم کم اور اپنا پرچار زیادہ کر رہی ہے۔‘
معلوم ہو کہ دہلی حکومت کی جانب سے تعلیمی بجٹ میں کٹوتی دیکھنے کوملی ہے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر اسکول آف اسپیشلائزڈ ایکسیلینس کا نام بدل کر ’سی ایم شری‘ کر دیا گیا ہے۔

اتم نگر میں رہنے والے جسميت ایک سرکاری دفتر کے لیے کیب چلاتے ہیں۔ ان کی بیوی دہلی پولیس میں ملازم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ دہلی میں گزشتہ ایک سال کے دوران صرف خوف اور دہشت بڑھانے کا کام کیا گیا ہے۔ لوگوں کو حقیقت میں کوئی راحت نہیں ملی، لیکن کاغذوں پر کئی اسکیمیں کھل گئی ہیں۔
کلسٹر بسوں کو بند کرنے کا فرمان
وہ کہتے ہیں،’میری بیوی پہلے بس میں آسانی سے آمدورفت کر سکتی تھی، مگر اب ہر علاقے کی بس سروس میں چپکے سے کٹوتی کر دی گئی ہے، جس کا لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا۔ جیسے پہلے 10-20 منٹ انتظار کے بعد ہمارے یہاں سے دہلی کے مختلف علاقوں کے لیے بسیں مل جاتی تھیں، لیکن اب ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑر ہا ہے۔ چھوٹی دوری کےلیے شروع کی گئی ’دیوی‘ (دہلی الکٹرک وہیکل انٹرکنیکٹر) بسیں اب لمبے روٹس پر چلنے لگی ہیں، جن میں جگہ بھی کم ہے اور یہ جلد خراب بھی ہو جاتی ہیں، جس سے اکثر سڑکوں پر ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔‘
وہ آئندہ وقت میں ایک اور مسئلے کی جانب توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ دہلی میں کلسٹر بسوں کو بند کرنے کا فرمان آگیا ہے، جس سے مسائل مزید بڑھیں گے۔ دہلی حکومت کہاں تو ان بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو مستقل کرنے کا وعدہ کر رہی تھی اور کہاں اب ان کی نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔
تاہم، دہلی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بیڑے میں 1,700 نئی بسیں شامل کی گئی ہیں، جن میں 500 الکٹرک بسیں بھی شامل ہیں۔
مہیلا سمردھی یوجنا
لوگوں کے گھروں میں گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی پشپا بتاتی ہیں،’ہم تو بی جے پی کو یہ سوچ کر ووٹ دیے تھے کہ حکومت بدلے گی تو کچھ کام ہوگا، ترقی ہوگی، لیکن یہاں تو تباہی ہو رہی ہے۔ غریبوں کے گھر توڑے جا رہے ہیں، پانی گندا ہوتا جا رہا ہے اور بجلی کی کٹوتی بڑھ گئی ہے۔ بس میں گلابی پاس کی جگہ کارڈ کا بول رہے ہیں، ہم غریب اور کم پڑھے لکھے لوگ کہاں ان چکروں میں بھٹکتے رہیں گے؟‘
فوٹو: بی جے پی
خواتین کی خوشحالی کے لیے بی جے پی حکومت کے ڈھائی ہزار روپے کے وعدے پر پشپا دیدی کہتی ہیں، ’اب تک کوئی پیسہ نہیں ملا۔ حکومت کی نیت ہی نہیں ہے، ورنہ ایک سال میں ریکھا میڈم بتا رہی ہیں کہ یہ کر دیا، وہ کر دیا، تو یہ بھی کر ہی دیتیں۔ دیوالی اور ہولی پر دو مفت گیس سلنڈر دینے کا وعدہ بھی کیا گیا تھا، لیکن دیوالی بیت گئی، کچھ نہیں ہوا۔ اب ہولی میں دیکھتے ہیں۔‘
گزشتہ پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دہلی کے کیرتی نگر میں رہنے والے ستیندر تیواری، جو ایک چھوٹی کریانہ کی دکان چلاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ دہلی حکومت 60 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کو دو سے ڈھائی ہزار روپے ماہانہ پنشن دیتی ہے۔ اس حکومت نے اسے بڑھانے کا اعلان کیا، جو ایک اچھی بات ہے، لیکن اس کی وجہ سے پہلے سے مل رہی پنشن کی ادائیگی میں کئی بار رکاوٹ آئی۔ اب سننے میں آ رہا ہے کہ حکومت اس کا دوبارہ جائزہ لے گی، جس کے لیے نئے سرے سے درخواست اور تصدیق کا عمل ہوگا۔ ایسے میں ممکن ہے کہ اس عمر میں کئی لوگوں کے لیے یہ عمل آسان نہ ہو اور موجودہ مستفیدین کی فہرست سے کچھ نام خارج ہو جائیں۔
آروگیہ مندر
کانگریس، عام آدمی پارٹی اور بی جے پی تینوں حکومتوں کا دور دیکھ چکے ستیندر تیواری کہتے ہیں،’حکومتیں پہلے بھی بدلتی رہی ہیں، لیکن اس حکومت نے آتے ہی جو افراتفری مچائی ہے، وہ شاید پہلی بار ہے۔ محلہ کلینک بند کر دیے گئے، جو آروگیہ مندر زمین اور کاغذوں پر ایک دم پرفیکٹ ہیں، کیا حکومت ان کا معائنہ کر رہی ہے؟ ان کی حالت محلہ کلینک سے کوئی بہتر نہیں ہے۔ کبھی دوائی نہیں ہے، کبھی مدد کے لیے کوئی موجود نہیں ۔ ممکن ہے آگے چل کر بہتری آئے، لیکن حکومت کو چاہیے تھا کہ پہلے سے موجود نظام کی خامیوں کو دور کرتی، لیکن یہاں نئی خامیوں کے ساتھ ایک نیا نظام کھڑا کر دیا گیا ہے۔‘
فوٹو: بی جے پی
بی جے پی طویل عرصے سے ’جہاں جھگی، وہیں مکان‘ کا وعدہ کر رہی ہے۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے بھی کہا تھا کہ کوئی جھگی نہیں توڑی جائے گی۔ لیکن دہلی کی کئی جھگی بستیوں اور غیر قانونی کالونیوں کو بغیر کسی بازآبادکاری کے توڑ دیا گیا۔ یہ کام عام آدمی پارٹی کی حکومت میں بھی ہوا اور ریکھا گپتا کی حکومت بھی اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔
جھگیوں پر بلڈوزر
تقریباً آٹھ ماہ پہلے تغلق آباد کی جھگی میں رہنے والی ثریا ،آج جنوب-مشرقی دہلی کے لال کنواں علاقہ (جوپل پرہلاد پور کے پاس ہے) میں سات ہزار روپے ماہانہ کرائے کے مکان میں رہتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے ان کے برسوں کی کمائی سے بنے چھوٹے سے گھر کو بلڈوزر سے منہدم کر دیا۔ اس کے بعد ان کے شوہر، جو ایک کار سروسنگ ایجنسی میں کام کرتے ہیں، ان کے ساتھ یہاں آ کر رہنے لگے۔
ثریا بتاتی ہیں،’ میرے شوہر پندرہ ہزار روپے کماتے ہیں۔ ہم بھی کچھ گھروں میں کام کر کے پانچ سے چھ ہزار روپے کما لیتے ہیں۔ گھر میں بوڑھے ساس سسر ہیں، ان کے اخراجات، دو بچے ہیں ان کا خرچ ،پہلے سب کچھ آسانی سے چل جاتا تھا، لیکن اب آدھی آمدنی تو کرائے میں ہی چلی جاتی ہے۔ گھر کیسے چل رہا ہے، یہ ہم ہی جانتے ہیں۔ ‘

وہ مزید کہتی ہیں،’ ہمیں زیادہ قانون اور صحیح غلط کا علم نہیں، لیکن ہم تقریباً بیس پچیس سال سے وہاں رہ رہے تھے۔ میرے سسر بہار سے دہلی آئے تھے، اس وقت ایک کمپنی میں مزدوری کرتے تھے۔ پھر میرے شوہر نے تھوڑی بہت پڑھائی کی اور گاڑیوں کا کام سیکھ کر ایک ایجنسی میں ملازمت حاصل کر لی۔ اب سسر بوڑھے ہو چکے ہیں، کچھ کر نہیں سکتے، اور ساس کو دل کی بیماری ہے۔ سب کچھ اتنا مہنگا ہو گیا ہے کہ جیسے تیسے بسر کر رہے ہیں۔ حکومت غربت نہیں، غریبوں کو ہی ہٹا رہی ہے۔ ‘
خبروں کے مطابق، گزشتہ ایک سال میں دہلی کے اوکھلا کے علی گاؤں، چھترپور، سید العجائب، ترکمان گیٹ، خیبر پاس، قرول باغ، جنگ پورہ، وزیرآباد، سیلم پور، دہلی کینٹ، تیمور نگر، نریلا اور پیراگڑھی سمیت دیگر مقامات پر غیر قانونی تعمیرات اور جھگیوں کو منہدم کیا گیا ہے۔
’کوڑے کے پہاڑ کم ہوتے نظر نہیں آ رہے‘
غورطلب ہے کہ تغلق آباد کے پاس ہی اوکھلا لینڈفل سائٹ واقع ہے، جہاں ہزاروں ٹن کچرا روزانہ بے شمار ٹرکوں کے ذریعے ٹھکانے لگانے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کے آس پاس رہنے والے لوگوں کے لیے یہ برسوں سے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ تہہ کھنڈ ویسٹ ٹو انرجی پلانٹ میں کچھ اس کاٹریٹمنٹ چل تو رہا ہے، لیکن ہ پہاڑ ابھی انہیں کم ہوتا بالکل نظر نہیں آتا۔
کچھ ایسا ہی حال بھلسوا اور غازی پور لینڈفل سائٹ کا بھی بتایا جا رہا ہے۔
معلوم ہو کہ بی جے پی حکومت نے تین سال میں لینڈفل سائٹس اور یمنا کو صاف کرنے اور ساتھ ہی ریور فرنٹ بنانے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ دہلی کی فضا کو صاف کرنے کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا گیا تھا۔ لیکن اس سال 2018 کے بعد سے دہلی میں آلودگی کی سب سےخطرناک سطح دیکھی گئی ہے۔

ابھی صرف ایک سال، آگے انتظار…
قابل ذکر ہے کہ دہلی میں بی جے پی حکومت کو اقتدار میں آئے ابھی ایک سال ہی ہوئے ہیں۔ اس دوران کئی ایسی اسکیمیں بھی شروع کی گئی ہیں جو براہ راست عوامی سہولت سے متعلق ہیں، جیسے’اٹل کینٹین‘، جس کے تحت غریب طبقے کو پانچ روپے میں غذائیت سے بھرپور کھانا مہیا کرایا جا رہا ہے۔ فی الحال حکومت کا دعویٰ ہے کہ 70 اٹل کینٹین سے روزانہ تقریباً 70 ہزار لوگوں کو کھانا دستیاب کرایا جا رہا ہے۔
اس منصوبے سے کئی لوگ خوش ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ کم از کم کھانے کا مسئلہ تو حکومت نے دورکر دیا ہے۔ تاہم ،کچھ لوگوں کو امید ہے کہ آنے والے دنوں میں بھی اس کا مؤثر انتظام برقرار رہے گا، کیونکہ اکثر ایسی اسکیمیں ابتدا میں تو بہتر چلتی ہیں لیکن بعد میں گڑبڑی پیدا ہو جاتی ہے۔
حکومت کے مطابق، بنیادی ڈھانچے اور سیور نیٹ ورک کی توسیع کو بھی تیز کیا گیا ہے۔ دہلی میں 180 کلومیٹر نئی سیور لائنیں بچھائی گئی ہیں اور 144 نئے منصوبوں کے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 105 ایم جی ڈی صلاحیت والے چندراول واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر اپنے آخری مرحلے میں ہے، جس سے 10 اسمبلی حلقوں کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔
اس کے علاوہ ریکھا گپتا حکومت نے سابقہ کیجریوال حکومت کی مفت بجلی اور پانی کی اسکیم کو بھی جاری رکھا ہے، اور اسکولوں کی فیس میں اضافہ نہیں ہونے دیا ہے۔
دہلی کا بجٹ 75 ہزار کروڑ سے بڑھا کر 1 لاکھ کروڑ کر دیا گیا ہے، جس کی تفصیلات وزیر اعلیٰ نے اپنے رپورٹ کارڈ میں پیش کی ہیں۔
دہلی کے کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ حکومت آنے والے دنوں میں بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے، جس سے عام آدمی کی مشکلات کم ہوں اور سہولیات میں اضافہ ہو۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو بغیر پیشگی رائے قائم کیے وقت دینا چاہیے، کیونکہ ہر حکومت کا کام کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ طویل عرصے تک اقتدار سے باہر رہی ہو۔ اس لیے حکومت کی کارکردگی کا درست اندازہ وقت کے ساتھ ہی لگایا جا سکے گا۔
تاہم، اب دہلی میں میونسپل کارپوریشن سے لے کر مرکز تک بی جے پی کی ٹرپل انجن کی حکومت ہے، جس کے باعث لوگوں کو آئے دن لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کے درمیان کھینچا تانی کی خبروں سے ضرور نجات مل گئی ہے۔ اسی لیے عوام کو مزید بہتر کام کی امید بھی ہے اور انتظار بھی۔
(شہریوں کے مسائل کے حوالے سے دی وائر نے دہلی حکومت کے متعلقہ محکموں کو سوال ارسال کیے ہیں۔ جواب موصول ہونے پر خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔)





