’زمین ریلوے کی ہے، تجاوزات کرنے والے شرائط طے نہیں کر سکتے‘، ہلدوانی تجاوزات تنازعہ معاملہ پر سپریم کورٹ کا حکم

AhmadJunaidJ&K News urduFebruary 24, 2026360 Views


ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹریک کی توسیع اور دیگر پروجیکٹس کے لیے اس زمین کی سخت ضرورت ہے، خاص طور پر دریا کی وجہ سے موجودہ ٹریک میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

سپریم کورٹ نے منگل (24 فروری) کو اتراکھنڈ اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت دی کہ وہ ایک کیمپ لگائے تاکہ ریلوے پروجیکٹ کے لیے درکار سرکاری زمین پر رہنے والے اور بے دخلی کا سامنا کرنے والے خاندان ’پردھان منتری آواس یوجنا‘ (پی ایم اے وائی) کے تحت بحالی کے لیے درخواست دے سکیں۔ عرضی گزاروں کے اصرار پر عدالت نے کہا کہ یہ کیمپ 15 مارچ کے بعد لگایا جائے، کیونکہ انہوں نے اسے رمضان کے مہینے کے بعد منعقد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے نینی تال ضلع کلکٹر اور دیگر ریونیو افسران کو ضروری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی۔ یہ پورا عمل 31 مارچ سے قبل مکمل کیا جانا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ضلع کلکٹر منصوبہ کے تحت ہر خاندان کی اہلیت طے کریں اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ دسمبر 2022 میں اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج دینے والی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی جس میں ہلدوانی میں سرکاری زمین پر مبینہ طور قبضہ کرنے والے تقریباً 50 ہزار لوگوں کو ہٹانے کی ہدایت دی گئی تھی۔ جنوری 2023 میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگا دی تھی اور اس عبوری حکم میں وقفے وقفے سے توسیع کی جاتی رہی ہے۔ جولائی اور ستمبر 2024 میں سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت، مرکزی حکومت اور ریلوے کو ہدایت دی تھی کہ وہ سرکاری زمین سے بے دخل کیے گئے لوگوں کے لیے بحالی کا منصوبہ تیار کریں۔

سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران کہا کہ تجاوزات کرنے والوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اسی جگہ پر رہنے کا مطالبہ کریں یا ریلوے کی زمین کے استعمال کا فیصلہ کریں۔ یہ معاملہ طویل عرصے سے چل رہا ہے۔ ریلوے کی تقریباً 30 ہیکٹر زمین پر بنبھول پورہ، غفور بستی اور دیگر علاقوں میں ہزاروں غیر قانونی تعمیرات قائم ہیں، جہاں ایک اندازے کے مطابق 5,000 سے زائد خاندان (تقریباً 50,000 افراد) رہتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ متاثرہ خاندانوں کی فہرست تیار کی جائے، خاص طور پر ای ڈبلیو ایس (معاشی طور پر کمزور طبقے) کے لوگوں کو پی ایم اے وائی کے تحت رہائش کے لیے درخواست دینے میں مدد ملے۔

عدالت نے حکم دیا کہ نینی تال ضلع کی ریونیو اتھارٹی، مرکز اور ریاستی حکومت مل کر ایک ہفتے کا کیمپ لگائیں، جہاں پی ایم اے وائی کے فارم بھرے جا سکیں اور یہ کیمپ 19 مارچ سے شروع ہو۔ حکم میں کہا گیا کہ بنبھول پورہ میں ایک بحالی مرکز قائم کیا جائے، جہاں ہر خاندان کا سربراہ جا کر فارم بھر سکے۔ نینی تال کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس ڈی ایم ہلدوانی کو لاجسٹکس سپورٹ فراہم کرنے کی ہدایات دی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ سماجی کارکن گھر گھر جا کر لوگوں کو پی ایم اے وائی کے بارے میں بیدار کریں۔ تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ تمام اہل خاندانوں کو پی ایم اے وائی کے تحت رہائش مل سکے۔

ریلوے کا کہنا ہے کہ ٹریک کی توسیع اور دیگر پروجیکٹس کے لیے اس زمین کی سخت ضرورت ہے، خاص طور پر دریا کی وجہ سے موجودہ ٹریک میں دشواری پیش آ رہی ہے۔ یہ علاقہ ریلوے کی توسیع کے لیے اتراکھنڈ میں آخری ممکنہ جگہ ہے، اس کے بعد پہاڑی علاقہ شروع ہو جاتا ہے۔

سماعت کے دوران عرضی گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے دلیل دی کہ یہاں 50,000 لوگ دہائیوں سے رہ رہے ہیں، کئی پٹے (لیز) والی زمین پر آباد ہیں اور ریلوے نے پہلے کبھی اس کا مطالبہ نہیں کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے ایک نقشہ پیش کیا جس میں قریب ہی موجود خالی زمین کے استعمال کی تجویز دی گئی۔ بھوشن نے کہا کہ ایک ساتھ اتنے خاندانوں کو پردھان منتری آواس یوجنا (پی ایم اے وائی) کے تحت گھر دینا ممکن نہیں، اور دہلی کی جھگی پالیسی میں بھی کٹ آف ڈیٹ ہوتی ہے۔

مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی نے کہا کہ اہل خاندانوں کو نقل مکانی کے بعد 6 ماہ تک 2000 روپے ماہانہ بھتہ (الاؤنس) دیا جائے گا۔ ریلوے اور ریاستی حکومت نے مشترکہ طور پر متاثرہ خاندانوں کی شناخت کرنے اور ان کی بحالی کے انتظامات کی یقین دہانی کرائی۔ معاملے کی اگلی سماعت اپریل 2026 میں ہوگی، تب تک ریلوے کی زمین سے تجاوزات ہٹانے کی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ مرکز نے بتایا کہ 13 زمینیں ’فری ہولڈ‘ ہیں اور ہرجانہ ریاست اور ریلوے دونوں مل کر ادا کریں گے۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...