
خاتون نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا کہ اس نے پہلے بھی اپنی شکایت واپس لے لی تھی کیونکہ ملزم اور اس کے گھر والوں نے اسے شادی کا یقین دلایا تھا۔ تاہم ملزم نے بعد میں کنڈلی نہ ملنے کا حوالے دے کر شادی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کنڈلی کا ملان اتنا ضروری تھا تو اس کا فیصلہ شروع میں ہی طے ہو جانا چاہیے تھا، رشتہ قائم کرنے کے بعد نہیں۔ عدالت کے مطابق پہلے مسئلہ ختم ہونے کی یقین دہانی اور بعد میں اسی بنیاد پر شادی سے انکار کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خاتون کی رضامندی دھوکے سے لی گئی ہو سکتی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے ملزم کو راحت دینے سے انکار کر دیا اور اس کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔





