
یہ ساری بحث ہمیں ایک بنیادی سوال کی طرف لے جاتی ہے: کیا ترقی کا مطلب انسانوں کو پیچھے چھوڑ دینا ہے؟ اگر ٹیکنالوجی کا فائدہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے اور اکثریت عدم تحفظ کا شکار ہو، تو ایسی ترقی کس کے لیے ہے؟
مزدوروں کی جدوجہد یہ یاد دلاتی ہے کہ مستقبل صرف مشینوں کا نہیں، انسانوں کا بھی ہونا چاہیے۔ اے آئی اور روبوٹس کے دور میں اصل چیلنج یہ ہے کہ ہم ٹیکنالوجی کو انسانی وقار، روزگار کے حق اور سماجی انصاف کے تابع رکھ سکیں۔ یہی وہ سوال ہے جو فیکٹری سے فٹ پاتھ تک گونج رہا ہے۔
(نندتا ہکسر معروف وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن ہیں)





