
یہ سوال صرف ایک شخص یا ایک جماعت کا نہیں، بلکہ پارلیمانی روایات کے تسلسل کا ہے۔ ماضی کے اسپیکروں نے یہ ثابت کیا کہ منصب کی غیر جانبداری ہی ایوان کی روح ہے۔ اگر اسپیکر کا رویہ کسی ایک فریق کے حق میں جھکتا ہوا محسوس ہو تو ایوان کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
آج جب پارلیمانی مباحث زیادہ تلخ اور سیاسی فضا زیادہ منقسم ہو چکی ہے، ایسے میں اسپیکر کے کردار کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ انہیں نہ صرف قواعد کا محافظ ہونا چاہیے بلکہ اس اعتماد کا بھی کہ ہر رکن کو مساوی موقع ملے گا۔ یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے۔
اسی لیے 24 جولائی 2024 کو ابھیشیک بنرجی کے کہے گئے الفاظ آج بھی گونجتے ہیں، ’’اسپیکر سر، اپنے عہدے کا مان رکھیے۔‘‘ یہ جملہ دراصل پارلیمانی روایت کی بقا کی اپیل ہے—ایک یاد دہانی کہ ادارے اشخاص سے بڑے ہوتے ہیں اور ان کی غیر جانبداری ہی جمہوریت کو مضبوط رکھتی ہے۔






