
انہوں نے مزید کہا، ’’جہاں تک گھریلو بچت میں گراوٹ اور ذاتی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی بات ہے تو اسے بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری کے بحران کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر مزید مطالعہ کی ضرورت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بجٹ ان ریاستی حکومتوں کو کوئی راحت نہیں دیتا جو شدید مالی بحران کا سامنا کر رہی ہیں۔‘‘
کانگریس صدر کے مطابق، ’’عدم مساوات برطانوی راج کے دور کی سطح کو بھی عبور کر گئی ہے لیکن بجٹ میں اس کا ذکر تک نہیں ہے۔ نہ ہی درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات، اقتصادی طور پر کمزور طبقات یا اقلیتوں کے لیے کسی امداد کا کوئی التزام کیا گیا ہے۔‘‘




