
بجٹ کا مرکزی زور ایک بار پھر سرمایہ جاتی اخراجات پر رہا۔ حکومت نے 2026-27 کے لیے 12.2 لاکھ کروڑ روپے کے کیپیٹل ایکسپینڈیچر کی تجویز دی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اس میں انفراسٹرکچر، مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر کو ترجیح دی گئی ہے۔ بایوفارما شکتی پروگرام، سیمی کنڈکٹر مشن 2.0، الیکٹرانکس کمپوننٹس اسکیم اور مختلف مینوفیکچرنگ انسینٹیوز کا اعلان اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان بکھری ہوئی اسکیموں کو جوڑنے والا کوئی واضح معاشی بیانیہ بھی موجود ہے؟
تقریر میں حکومت کی ترجیحات اور ممکنہ سمجھوتوں پر خاطر خواہ روشنی نہیں ڈالی گئی۔ عالمی سطح پر بڑھتی جغرافیائی سیاست کی غیر یقینی صورتحال اور سرحدی تناؤ کے باوجود بجٹ خطاب میں دفاع کا براہِ راست ذکر نہ ہونا قابلِ توجہ ہے۔ اسی طرح دیہی معیشت کی ریڑھ سمجھی جانے والی منریگا اسکیم، جسے اب نئے نام سے پیش کیا جا رہا ہے، بجٹ تقریر میں سرے سے شامل ہی نہیں تھی۔ یہ خاموشی اس وقت زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے جب دیہی علاقوں میں روزگار، حقیقی اجرتوں کی جمود اور مہنگائی ایک سنجیدہ مسئلہ بنی ہوئی ہے۔






