
اب تک پارلیمانی جمہوریت، وفاقی ڈھانچہ اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی تقسیم ہندوستانی جمہوریت کی عملی بنیاد رہی ہے۔ لیکن جیسے جیسے طاقت انتظامیہ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی جا رہی ہے، ویسے ویسے مقننہ اور عدلیہ کا کردار کمزور پڑتا جا رہا ہے۔
ریاستوں کے وفاقی اختیارات میں مسلسل مداخلت اور ہندوستان کی ثقافتی تنوع کو ایک مرکزی، یکساں اور معیاری سانچے میں ڈھالنے کی کوششیں قومی اتحاد کی بنیاد کو کمزور کر رہی ہیں۔
جب چھتیس گڑھ کے ایک ہندی بولنے والے مہاجر مزدور کو ’بنگلہ دیشی درانداز‘ ہونے کے شبہ میں پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے، جب تریپورہ کے ایک آدیواسی طالب علم کو اتراکھنڈ میں اس کے مبینہ ’چینی حلیہ‘ کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جب کرسمس تقریبات پر حملے ہوتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کے ’جرم‘ میں گرفتار کیا جاتا ہے، تو یہ صاف نظر آتا ہے کہ سیکولر ہندوستان کو ہندو راشٹر میں بدلنے کی سنگھ-بی جے پی مہم کس قدر تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔






