ایک خدا، ایک انسانیت، ایک ہدایت…ایف اے مجیب

AhmadJunaidJ&K News urduJanuary 25, 2026368 Views


یہی وہ اصول ہے جس پر تمام آسمانی مذاہب کی فکری عمارت قائم ہے۔ قرآنِ مجید اس حقیقت کو نہایت وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان کرتا ہے “فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا” (الروم: 30) یعنی اپنا رخ یکسو ہو کر اسی دین کی طرف کر لو جو اللہ کی فطرت ہے، جس پر اس نے تمام انسانوں کو پیدا کیا۔

یہاں ایک نہایت بنیادی اور منطقی اصول سامنے آتا ہے: جب خالق ایک ہے، انسان ایک ہیں اور انسانی فطرت یکساں ہے تو اخلاق، عقیدہ، عبادت اور مقصدِ زندگی کے بنیادی تصورات بھی ایک ہی ہونے چاہئیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام آسمانی مذاہب کے بنیادی عقائد ہمیشہ مشترک رہے ہیں: خدا کی وحدانیت، وحی پر ایمان، آخرت کا تصور اور اخلاقی ذمہ داری۔

دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ یہی تصورِ وحدانیت ہمیں دیگر مذاہب کی اصل تعلیمات میں بھی نمایاں طور پر ملتا ہے۔ ہندو مت کی قدیم ویدک روایت میں ”ایکَم ست وِپرا بہودھا ودنتی” یعنی “سچ ایک ہے، اہلِ دانش اسے مختلف نام دیتے ہیں”کا تصور دراصل وحدتِ الٰہ کی ہی بازگشت ہے۔ اُپنشدوں میں “برہمن” کو واحد اور مطلق حقیقت کہا گیا جو کائنات کی اصل بنیاد ہے۔ یہودیت میں “شِماع اسرائیل” کا اعلان ہے: “سنو اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔” مسیحیت میں اگرچہ بعد کے ادوار میں تثلیث کا تصور سامنے آیا، مگر حضرت عیسیٰؑ کی تعلیمات میں خدا کی وحدانیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے: “خداوند ہمارا خدا ایک ہی خدا ہے۔” زرتشت کی تعلیمات میں “اہورا مزدا” کو واحد، برتر اور خالقِ کائنات مانا گیا۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...