
دن بھر میں وہ 50 سے 60 انڈا پاؤ بیچ لیتے ہیں، جس سے تمام اخراجات نکال کر بھی انہیں ماہانہ 12 سے 15 ہزار روپے کی آمدنی ہو جاتی ہے۔ کریم کہتے ہیں، ’’اب تو دھندا بہت ہی مندا پڑ گیا ہے۔ دس سال پہلے روزانہ تقریباً ایک ہزار روپے کماتا تھا، اب بمشکل 500 روپے ہوتے ہیں۔‘‘ سنیما کے باہر بھنے چنے بیچنے والے 59 سالہ دلیپ گپتا کہتے ہیں، “اب دن بھر میں دو کلو چنا بیچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔”
ایسے حالات میں الفریڈ ٹاکیز بہت سے لوگوں کے لیے سکون کی جگہ ہے۔ دھاراوی کے منٹو پاسوان کہتے ہیں، “الفریڈ بہت پرانا ہے، مگر اب تک ٹکا ہوا ہے۔” منٹو ہر چھٹی کے دن تقریباً دس کلو میٹر کا سفر طے کر کے الفریڈ آتے ہیں۔ وہ اتر پردیش کے ضلع گونڈا سے ممبئی آئے تھے اور ایک فیکٹری میں سوٹ کیس بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 14 ہزار روپے ہے۔
دوپہر کے تین بج رہے ہیں اور شو شروع ہونے والا ہے۔ دربان لوگوں کو اندر بلانے لگتا ہے۔ فلم دیکھنے سے پہلے منٹو کہتے ہیں، “یہ تھرڈ کلاس ہال ہے۔ یہاں اچھے لوگوں کی گاڑیاں نہیں آتیں۔” یہ کہتے ہوئے وہ مدھم روشنی والے ہال میں داخل ہو جاتے ہیں۔
(مآخذ: رورل انڈیا آن لائن ڈاٹ او آر جی)






