
ان کی شاعری کا سب سے نمایاں پہلو خوف سے انکار ہے۔ وہ اقتدار، جبر، مذہبی تنگ نظری اور سماجی منافقت کے خلاف پوری جرات کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا یہ مشہور شعر اسی بے خوف مزاج کی نمائندگی کرتا ہے:
سبھی کا خون ہے شامل یہاں کی مٹی میں
کسی کے باپ کا ہندوستان تھوڑی ہے
یہ شعر محض ایک مصرعہ نہیں بلکہ ایک واضح اعلان ہے کہ وطن کسی ایک طبقے، نظریے یا طاقت کی جاگیر نہیں۔ راحت اندوری کے یہاں طنز تلخ ضرور ہے مگر بازاری نہیں، وہ چبھتا ہے مگر شائستگی کے دائرے میں رہتا ہے۔





