وہ وزیرِاعظم جن کے دور میں حقوق مضبوط ہوئے، جنہیں آج کمزور کیا جا رہا ہے

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 26, 2025362 Views


ان فیصلوں کو کسی انتخابی حکمتِ عملی کے تحت نہیں لیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اثرات زمینی سطح پر کہیں زیادہ مضبوط اور دیرپا ثابت ہوئے۔ تندولکر کمیٹی کے تخمینے کے مطابق، منموہن سنگھ کے دس سالہ دور میں خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کا تناسب 37.2 فیصد سے گھٹ کر 21.9 فیصد رہ گیا۔

اس کے باوجود منموہن سنگھ نے کبھی ان کامیابیوں کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ بائیں بازو کی جماعتیں آج بھی کہتی ہیں کہ منریگا ان کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ کئی سول سوسائٹی تنظیمیں تعلیم کے حق کا سہرا اپنے سر باندھتی ہیں۔ لال کرشن آڈوانی نے یہ دعویٰ کیا کہ اطلاعات کے حق کا بنیادی خاکہ انہوں نے وزیرِداخلہ کے طور پر تیار کیا تھا، جبکہ خوراک کے حق کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے جوڑا جاتا ہے۔ منموہن سنگھ نے کبھی ان دعوؤں کی تردید نہیں کی۔ ان کا یقین مخالفین کے سوالات اور دعوؤں کی آبرو رکھنے میں تھا۔

موجودہ دور کے ان رہنماؤں کے برعکس جو سرخیاں سمیٹنے اور تالیاں بجوانے کو سیاست سمجھتے ہیں، منموہن سنگھ ایک ایسے سیاست داں تھے جو اعداد و شمار اور معقول دلائل کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے۔ وہ وقتی مقبولیت کے بجائے طویل المدتی نتائج کو ترجیح دیتے تھے۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا تھا: ’’مستقبل انہی کا ہوتا ہے جو اپنے خوابوں کی خوب صورتی پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘ منموہن سنگھ نے نہ صرف خوابوں پر یقین کیا بلکہ انہیں حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ہندوستان کو مضبوط بنیاد بھی فراہم کی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...