
تحقیقات سے یہ بھی پتہ چلا کہ نرنجن داس کو جان بوجھ کر ایکسائز کمشنر اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے سکریٹری کا اضافی چارج دیا گیا تھا تاکہ شراب گھوٹالہ کو آسانی سے چلانے میں آسانی ہو۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے اپنی قانونی ذمہ داریوں سے غفلت برتی اور سرکاری ریونیو کی کھلی لوٹ مار کی اجازت دی۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ نرنجن داس کا کردار صرف بنیادی جرم تک ہی محدود نہیں تھا بلکہ اس نے منی لانڈرنگ میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان کی وجہ سے ہی ریاستی وسائل کی اتنی بڑی لوٹ مار ممکن ہوئی۔






