
منگل کو ہوئی سماعت کے دوران عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سنے۔ اس کے بعد عدالت نے استغاثہ کو ہدایت دی کہ وہ آئندہ مرحلے میں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ساتھ ہی پولیس کمشنر اور ڈی سی پی گریٹر نوئیڈا کو حکم دیا گیا کہ اگر گواہوں کو کسی بھی قسم کی سکیورٹی درکار ہو تو فوری طور پر فراہم کی جائے۔
اخلاق کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکلاء یوسف سیفی اور اندلیب نقوی نے بتایا کہ عدالت نے حکومت کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے اور مقدمے کی سماعت کو منطقی انجام تک پہنچانے کا عندیہ دیا ہے۔






