
غورطلب ہے کہ جمعہ کے روز محکمہ انصاف نے جیفری ایپسٹین سے متعلق ہزاروں دستاویزات عام کئے تھے۔ ایپسٹین ایک سزا یافتہ جنسی مجرم تھا جس نے 2019 میں جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ تاہم ان دستاویزات میں بھاری کٹوتی (ریڈیکشن) اور ٹرمپ کی بہت کم وضاحت ہونے کو لے کر محکمے کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں کچھ ریپبلکن رہنمابھی شامل ہیں۔ اس دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے ہاؤس مائینارٹی لیڈر حکیم جیفریز نے اے بی سی نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ اس پورے معاملے کی ’مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات ہونی چاہئے کہ دستاویزات کا افشاء قانون کے تقاضوں پر کھرا کیوں نہیں اترا‘۔






