افغان خواتین کے لیے امید کی کرن

AhmadJunaidJ&K News urduDecember 14, 2025365 Views


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ افغانستان میں طالبان حکام نے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو شدید طور پر محدود کر دیا ہے، انہیں کھیلوں اور 12 سال کی عمر کے بعد تعلیم حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔ یہ ایک ایسا منظرنامہ ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جاتی ہے، اور زیادہ تر لوگ طالبان پر دباؤ ڈالنے کے لیے مکمل تنہائی اور پابندیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاہم، بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی ) کی ایک افغان رکن، سمیرا اصغری نے ایک بالکل مختلف اور متنازعہ راستہ تجویز کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ طالبان کے ساتھ براہ راست بات چیت اور مکالمہ ہی آگے بڑھنے کا سب سے قابل عمل راستہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کوئی شخص جو خواتین کے حقوق کے لیے وقف ہے، وہ ان لوگوں سے بات کرنے کا انتخاب کیوں کرے گا جو خواتین کے حقوق پر پابندی لگاتے ہیں؟

متنازع لیکن ضروری حکمتِ عملی

سمیرا اصغری کا بنیادی عقیدہ یہ ہے کہ طالبان کو الگ تھلگ کرنا غیر موثر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی برادری مکمل تنہائی اور پابندیوں کا مطالبہ کرتی ہے، اصغری کا مؤقف ہے کہ چونکہ طالبان “زمینی حقیقت” ہیں، اس لیے ان سے بات چیت سے انکار کرنا “کچھ نہ کرنے” کے مترادف ہے۔ یہ حکمت عملی اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ رابطے کا ایک عملی، اگرچہ مشکل، راستہ اختیار کرتی ہے، اور اس اعتراف پر مبنی ہے کہ تبدیلی باہر سے مسلط کرنے کے بجائے اندر سے بات چیت کے ذریعے لائی جا سکتی ہے، چاہے وہ بات چیت کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو۔ اصغری کے مطابق، “جب تک طالبان افغانستان میں زمینی حقیقت ہیں، ہم کچھ نہ کر کے وقت ضائع کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔”

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...