
راہل گاندھی نے کہا، ’’روایت رہی ہے کہ جو بھی بیرونِ ملک سے وفود آتے ہیں، ان کی ایل او پی (قائد حزب اختلاف) سے ملاقات ہوتی ہے۔ یہ روایت اٹل بہاری واجپئی کے دور میں بھی تھی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں بھی لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ جب کوئی وفد ہندوستان آتا ہے یا میں بیرونِ ملک جاتا ہوں، تو حکومت انہیں واضح طور پر مشورہ دیتی ہے کہ ایل او پی سے نہ ملیں۔ ہمیں براہِ راست پیغامات ملتے ہیں کہ حکومت نے کہا ہے آپ سے نہیں ملنا۔‘‘
ان کے مطابق اپوزیشن بھی ملک کی نمائندگی کرتی ہے اور ہندوستان کی خارجہ پالیسی کا ایک متبادل نقطۂ نظر رکھتی ہے لیکن حکومت نہیں چاہتی کہ غیر ملکی رہنماؤں یا وفود سے اپوزیشن کی ملاقات ہو۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ’’یہ ایک روایت ہے، ایک نارم ہے لیکن مودی جی اور وزارتِ خارجہ اس نارم کو فالو نہیں کرتے۔‘‘






