
کارپوریشن کی جانب سے 3 نوٹس بھیجے جانے کے باوجود اسپتال آپریٹروں نے اس معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جب افسران نے چھان بین کی تو آپریٹروں نے استعمال کی اجازت یا تعمیرات کو جائز ٹھہرانے والے کوئی بھی دستاویز یا ثبوت پیش نہیں کئے۔ قانونی عمل پورا کئے بغیر اسپتال کا استعمال جاری رکھنا سنگین لاپرواہی کے زمرے میں آتا ہے اور اس وجہ سے اے ایم سی نے فوری طور پر ان جائیدادوں کو سیل کر دیا ہے۔
اس کارروائی میں شہر کے پوش اور ترقی یافتہ علاقوں کو شامل کیا گیاہے۔ اس میں خاص طور پر ساؤتھ بوپل، ضحیٰ پورہ، سرکھیج، مکتم پورہ، جودھ پور اور سندھو بھون روڈ علاقے شامل ہیں۔ سیل کیے گئے اسپتالوں میں آرتھوپیڈک، میٹرنٹی ہوم اور چلڈرن اسپتال شامل ہیں۔





