
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ قریب ہی کراسنگ پر ٹریفک ڈیوٹی پر تعینات کانسٹیبل ساحل خان اور پشپیندر نے بس میں آگ دیکھی تو وہ اس کی طرف دوڑے۔ انہوں نے کہا کہ آگ کی تپش اور دھوئیں کے باوجود دونوں بس میں داخل ہوئے اور مسافروں کو نکالنا شروع کر دیا۔
کانسٹیبل ساحل خان نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’آگ کے شعلے پہلے ہی چھت تک پہنچ رہے تھے۔ ہم مسافروں کو اپنا سامان چھوڑنے کے لیے کہہ رہے تھے۔ اگر ہم دو منٹ بھی تاخیر سے پہنچتے تو بہت سی جانیں ضائع ہو سکتی تھیں۔‘‘ ساحل اور پشپیندر نے بچوں کو دھوئیں سے بھرے کیبن سے باہر نکالا۔ انہوں نے ایک حاملہ خاتون اور کئی بوڑھے مسافروں کو بھی اپنے بازوؤں پر اٹھا کر باہر نکالا۔ اس کے بعد بھی ایک بچے کے بس میں پھنسے ہونے کی اطلاع ملنے پر وہ پھر سے بس میں داخل ہوئے۔






