
علامات کی بات کی جائے تو کمر یا پہلو میں شدید درد، متلی، قے، جلن کے ساتھ پیشاب آنا، بار بار پیشاب کی حاجت اور یورین میں خون آنا عام نشانیاں ہیں۔ بعض مریضوں میں ابتدا میں کوئی علامت ظاہر نہیں ہوتی، جس کے باعث پتھری وقت کے ساتھ بڑی ہوتی جاتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹروں کا مشورہ ہے کہ تکلیف یا مشتبہ علامات سامنے آنے پر فوراً ٹیسٹ کروائے جائیں، جن میں الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین اور یورین رپورٹ اہم ہیں۔
علاج کا انحصار پتھری کے سائز اور جگہ پر ہوتا ہے۔ چھوٹے اسٹون عموماً دواؤں، پانی کی مقدار بڑھانے اور ڈاکٹر کی نگرانی سے خود ہی خارج ہو جاتے ہیں، لیکن بڑی پتھریوں کے لیے لیتھو ٹرپسی، لیپروسکوپک سرجری یا دیگر طریقوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ بغیر تشخیص، گھریلو ٹوٹکوں یا مشوروں پر انحصار سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔




