
راجپوت کے مطابق کمیٹی نے مذکورہ چاروں کو ریکارڈ پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے دو مواقع فراہم کیے تھے، لیکن دونوں طے شدہ میٹنگوں میں ان کی مسلسل غیر حاضری کے بعد اب کمیٹی نے اس معاملے میں آئندہ کی کارروائی طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی سچائی کو یقینی بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ افراد تعاون کریں۔
یہ معاملہ 9 اگست 2022 کو اس وقت سامنے آیا تھا جب دہلی اسمبلی کے اسپیکر وجیندر گپتا نے اسمبلی کمپلیکس کے اندر بنائے گئے ’پھانسی گھر‘ پر سوالات اٹھائے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ کیجریوال حکومت نے ایک فرضی اور ’نقلی پھانسی کا تختہ‘ تیار کروا کر عوام کو گمراہ کرنے والے اشتہارات پھیلائے اور اس پر سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔






