ریاستی گورنر اسمبلی سے منظور شدہ بلوں کو لامحدود مدت تک نہیں روک سکتے، سپریم کورٹ کا فیصلہ

AhmadJunaidJ&K News urduNovember 20, 2025437 Views


عدالت نے اس دلیل کو بھی یکسر مسترد کر دیا کہ متعینہ مدت کے بعد بل کو از خود منظور شدہ یعنی ڈی مڈ اسینٹ سمجھا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ہندوستانی دستور میں ایسی کوئی شق موجود نہیں، اور نہ ہی عدالت کو یہ اختیار ہے کہ وہ آرٹیکل 142 کے تحت اس طرح کی کوئی منظوری فراہم کرے۔ عدالت نے واضح کیا کہ بل کی منظوری یا اعتراض کا اختیار مکمل طور پر گورنر اور صدر کے دائرہ کار میں آتا ہے، اس میں عدلیہ کا براہِ راست عمل دخل نہیں ہوسکتا۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ گورنر صرف ’ربر اسٹیمپ‘ کا کردار ادا نہیں کرتے، لیکن منتخب حکومت ہی انتظامیہ کی گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ہوتی ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ پر دو لوگ نہیں بیٹھ سکتے، اس لیے گورنر کو عمومی معاملات میں وزارتی کونسل کی مشاورت ماننا ہی پڑتی ہے۔ تاہم کچھ مخصوص اور غیر معمولی حالات میں وہ محدود دائرے میں اپنا آئینی اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...