
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’حکومت کو سمجھنا چاہیے کہ کئی علاقوں میں 10 گھنٹے کی سپلائی بھی پوری نہیں ہو پا رہی۔ دیہی علاقوں میں بار بار بجلی کٹ رہی ہے، جبکہ خود دارالحکومت بھوپال میں بھی بجلی کی کمی کے مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔‘‘
دوسری جانب بجلی محکمے کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ قدم بجلی کے منصفانہ استعمال کے لیے اٹھایا گیا ہے تاکہ کسانوں کو برابر موقع مل سکے اور نظام پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ تاہم کسانوں کا کہنا ہے کہ ربی کی فصل کے دوران فصلوں کو وقت پر پانی دینا ضروری ہوتا ہے، اور 10 گھنٹے کی پابندی ان کے لیے مشکلات پیدا کرے گی۔
اس حکم کے نافذ ہوتے ہی مدھیہ پردیش کے کئی اضلاع میں کسان تنظیموں نے حکومت سے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ فیصلہ برقرار رہا تو فصلوں کو نقصان پہنچے گا اور کسانوں کا مالی بوجھ مزید بڑھے گا۔





