
انہوں نے بی جے پی کے پرانے لیڈروں اور کارکنوں کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ اکھلیش نے پوچھا کہ جو لوگ برسوں سے وزیر بننے کی امید لگائے بیٹھے ہیں ان کا کیا ہو گا؟ اگر باہر سے آئے لیڈروں کو ترجیح دی گئی تو پرانے کارکنوں میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ وزراء کے قلمدان کم کیے جاتے ہیں یا ان سے وزارت چھین لی جاتی ہے تو عوام میں یہ پیغام جائے گا کہ وہ اپنے کام میں کامیاب نہیں رئے۔ اکھلیش یادو نے بی جے پی کے حلیفوں پر بھی حملہ بولا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنے اتحادیوں کو صرف انتظار کرواتی ہے اور پھر وقت آنے پر کنارے کردیتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جن کے سہارے آئے تھے، وہ اب تمہارے نہیں رہے۔






