ہندوستان میں انتخابات کی شفافیت پر اٹھتے سوال

AhmadJunaidJ&K News urduMay 1, 2026361 Views


بنگال اسمبلی انتخابات میں الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل آزادی دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر عوام نے اس ماڈل کو قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس  میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوگا۔

’انتخابی مہم اور ووٹنگ کے دن سکیورٹی فورسز کے رویے سے بھی واضح تھا کہ انہیں ایک پارٹی کے خلاف اور دوسری پارٹی کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔‘ (فوٹو: پی ٹی آئی)

مغربی بنگال میں نئی اسمبلی کے لیے انتخابات مکمل ہو چکے ہیں۔ اس وقت اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ممتا بنرجی یہ انتخاب ہار چکی ہیں۔ جس طرح انتخابات کروائے گئے، اسے دیکھتے ہوئے یہی فطری لگتا ہے۔ نتائج تو 4 مئی کو آئیں گے، فی الحال ہم صرف یہ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ انتخاب کس طرح لڑا گیا اور اس کے بنگال اور ہندوستان کے لیے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔

انتخابات میں دو اہم حریف تھے؛ بھارتیہ جنتا پارٹی اور ترنمول کانگریس۔ بی جے پی کے معاون کے طور پر الیکشن کمیشن نے اپنے تمام وسائل بی جے پی کے لیے استعمال کیے۔ سپریم کورٹ نے بھی الیکشن کمیشن کو مکمل چھوٹ دے کر بالواسطہ طور پر بی جے پی کا ساتھ دیا۔ اگر یہ ماڈل عوام نے قبول کر لیا تو ہندوستان میں انتخابات اسٹالن کے روس میں ہونے والے انتخابات جیسے ہو جائیں گے، جہاں نتیجہ ووٹنگ سے پہلے ہی سب کو معلوم ہوتا ہے۔

بعض اخبار اس انتخاب کو ممتا بنرجی کی زندگی کی سب سے بڑی جنگ قرار دے رہے ہیں۔ اگر ہم انتخاب سے پہلے ریاست میں مرکزی مسلح افواج کی تعیناتی کو دیکھیں تو یہ واقعی ایک جنگ جیسا ہی تھا۔ لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ مغربی بنگال میں فضائیہ اور بحریہ کو تعینات نہیں کیا گیا تھا۔ یہ تعیناتی غیر جانبدار اور پرامن انتخابات کے انعقاد سے زیادہ ممتا بنرجی کی پارٹی ترنمول کانگریس کے ارکان کو خوفزدہ کرنے اور ووٹروں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کے لیے کی گئی تھی۔

فوٹو: پی ٹی آئی

انتخابی مہم اور ووٹنگ کے دن سکیورٹی فورسز کے رویے سے بھی واضح تھا کہ انہیں ایک پارٹی کے خلاف اور دوسری پارٹی کی مدد کے لیے بھیجا گیا تھا۔ لنگی پہن کر پولنگ اسٹیشن آنے والے ووٹروں کو واپس بھیج دینا اسی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جو لباس دیکھ کر انسان کی پہچان کرتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے تو پہلے ہی اپنے دھمکی آمیز بیانات سے واضح کر دیا تھا کہ وہ اس انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کر کے اس کی جیت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ ووٹر لسٹ کی صفائی کے نام پر تقریباً 27 لاکھ سے زائد زندہ ووٹروں سے حق رائے دہی چھین کر الیکشن کمیشن نے یہ ظاہر کر دیا تھا کہ اس کی دلچسپی صرف انتخابات کروانے میں نہیں بلکہ ایسے ووٹروں کو الگ کرنے میں ہے جو بی جے پی کے لیے مشکل پیدا کر سکتے ہیں۔


جن دلائل کی بنیاد پر ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹائے گئے، انہیں سمجھنے میں سپریم کورٹ بھی ناکام رہی۔ جس ’منطقی تضاد‘کا سہارا لے کر لاکھوں ووٹروں کے نام کاٹے گئے، اسے سپریم کورٹ نے بھی غیر معمولی اور غیر منطقی قرار دیا۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ کو بھی ان ووٹروں کا حق رائے دہی بحال کرنے کی کوئی عجلت نہیں تھی۔

’اگر اس انتخاب میں ووٹ نہیں دیا تو کون سی آفت آ جائے گی؟‘ یہ سپریم کورٹ کا تبصرہ تھا۔ جیسے الیکشن کمیشن نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس انتخاب میں ووٹ ڈالیں، ویسے ہی’اس انتخاب‘میں ان کے ووٹ نہ ڈالنے پر سپریم کورٹ کو بھی کوئی اعتراض نہیں تھا۔


یہاں تک کہ پولنگ افسران کے نام بھی ووٹر لسٹ سے ہٹا دیے گئے تھے۔ لیکن ملک کی سب سے بڑی عدالت کے لیے یہ بھی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ اس نے کہا کہ وہ پہلے ووٹنگ کروا دیں، اگلے انتخاب میں اپنا ووٹ ڈال لیں! سب نے دیکھا کہ جن ناموں کو ہٹایا گیا، ان میں مسلمانوں کے نام آبادی کے تناسب سے غیر متناسب طور پر زیادہ تھے۔ ایسی نشستوں پر، جہاں وہ فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے تھے، بڑی تعداد میں ان کے نام حذف کر دیے گئے تھے۔

اس کے ساتھ ہی ترنمول کانگریس کے لیے انتخابی مہم کا کام دیکھ رہی ایک تنظیم پر مرکزی تحقیقاتی اداروں نے چھاپہ مارا اور اس کے افسران کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی صرف اور صرف ترنمول پارٹی کی انتخابی مہم کو مفلوج کرنے کے لیے تھی۔ اس بات کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ انتخاب ختم ہوتے ہی اس گرفتار افسر کو ضمانت مل گئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس ضمانت کی مخالفت بھی نہیں کی۔

انتخابی مہم کے دوران مسلسل ترنمول کانگریس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کی جاتی رہیں۔ اس قدر بے شرمی کا مظاہرہ کیا گیا کہ دو بار کلکتہ ہائی کورٹ کو الیکشن کمیشن کو سرزنش کرنی پڑی۔ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود الیکشن کمیشن ترنمول کانگریس کے لوگوں کو گرفتار کرتا رہا۔ ان باتوں کو مدنظر رکھیں تو کہا جا سکتا ہے کہ منصفانہ انتخابات کرانے کی ذمہ داری جن اداروں کی تھی، انہوں نے اس انتخاب کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیے آسان بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ترنمول کانگریس کے ہاتھ پیچھے باندھ دیے گئے۔ کسی کے لیے یہ دیکھنا مشکل نہیں تھا کہ یہ ایسی مقابلہ آرائی ہے جس میں دونوں جماعتیں برابر کی سطح پر نہیں کھڑی تھیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے یہ تشویش کا باعث ہے، لیکن بہت سے لوگوں کو اس میں بڑا مزہ آ رہا ہے۔

انتخابی مہم میں بی جے پی نے تبدیلی کا نعرہ دیا۔ یہ اسی طرح کا پردہ تھا جیسے ’سب کا ساتھ، سب کا وکاس‘کا نعرہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ مہم کے لیے ایک پردہ تھا۔ تبدیلی کے نعرے کی آڑ میں بی جے پی نے جس لفظ کا سب سے زیادہ استعمال کیا، وہ تھا گھس پیٹھیا۔ ممتا بنرجی کو گھس پیٹھیوں کی رہنما بتایا گیا اور بی جے پی ہر گھس پیٹھیے کو ایک ایک کر کے نکال باہر کرے گی-یہ بات امت شاہ نے بار بار کہی۔ اس کا مطلب ہر ایک کے لیے واضح تھا۔

سندیش کھالی میں زمین ہڑپنے اور تشدد کے ملزم ترنمول کے رہنما شاہجہاں شیخ کو بار بار گھس پیٹھیا کہا گیا۔ اسے مجرم کہا جا سکتا تھا، لیکن وزیر داخلہ امت شاہ نے جان بوجھ کر اسے گھس پیٹھیا کہا۔ بی جے پی کے رہنما یہی کہہ رہے ہیں کہ تمام مسلمان گھس پیٹھیے ہیں۔

ہمایوں کبیر نامی ایک رہنما نے انتخابات سے ٹھیک پہلے بابری مسجد بنانے کا اعلان کیا۔ امت شاہ نے اسے بھی ایک ایشو بنایا؛’ممتا بنرجی اپنے پیادے ہمایوں کبیر کے ذریعے بابری مسجد بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن وہ کان کھول کر سن لیں: بنگال ہندوستان کا حصہ ہے، اور جب تک بی جے پی کا ایک بھی کارکن زندہ ہے، ہم یہاں کسی کو بابری مسجد نہیں بنانے دیں گے۔‘

بنگال میں ہر کوئی، خصوصی طور پر مسلمان، کہہ رہا ہے کہ ہمایوں کبیر بی جے پی کا آدمی ہے۔ وہ بابری مسجد بنانے کی بات کرے گا اور بی جے پی اس کے خلاف ہندو جذبات کو مجتمع کرے گی-بی جے پی کی حکمت عملی یہی ہے۔ نریندر مودی نے اپنی تقریروں میں اپنی مخصوص زبان میں ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکانے کا کام کیا۔ ممتا بنرجی درگا پوجا میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور ووٹ بینک کی سیاست کرتی ہیں،مودی نے اپنی تقریروں میں اسے بار بار دہرایا۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بنگال میں اردو نہیں بولنے دیں گے۔ انہوں نے ترنمول پر الزام لگایا کہ وہ بنگال کو ہندوؤں سے خالی کرنا چاہتی ہے۔ ہمنتا بسوا شرما نے بھی اس انتخاب کو بیرونی لوگوں کے خلاف مقامی لوگوں کی لڑائی قرار دیا۔

بنگال بی جے پی کے سب سے بڑے رہنما سویندو ادھیکاری کا کلیدی نعرہ ہی تھا ’جئے شری رام‘۔’میں پوجا کر رہا ہوں، ممتا نماز پڑھ رہی ہے‘؛کیا اس کا مطلب سمجھانے کی ضرورت ہے؟

بی جے پی نے یہ انتخابی مہم مکمل طور پر ہندوتوا کی زبان میں چلائی۔ وہ بنگال میں ہندوؤں کو مبینہ طور پر بیرونی، گھس پیٹھیے مسلمانوں سے بچانے کے لیے حکومت بنانا چاہتی ہے۔ واضح ہے کہ وہ مسلمانوں کا ووٹ نہیں چاہتی تھی اور ہندوؤں کا ووٹ ان کے خلاف چاہتی تھی۔

الیکشن کمیشن کے فرقہ وارانہ اقدامات کے بعد بی جے پی کی اس شدید فرقہ وارانہ انتخابی مہم نے بنگال کے سمجھدار لوگوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ اگر اس فرقہ وارانہ مہم کی بنیاد پر بی جے پی حکومت بناتی ہے تو وہ آگے کیا کرے گی،کیا اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے؟

اپوروانند دہلی یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...