
اداکاری کے ساتھ ساتھ بلراج ساہنی ایک بہترین مصنف بھی تھے۔ ان کے سفرنامے ’میرا پاکستانی سفرنامہ‘ اور ’میرا روسی سفرنامہ‘ ان کے مشاہدے اور فکر کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے 1957 میں فلم ’لال بتی‘ کی ہدایت کاری بھی کی، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک اور پہلو ہے۔
13 اپریل 1973 کو بلراج ساہنی اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک احساس کا نام ہیں—ایسا احساس جو آج بھی ہندستانی سنیما کو معنی اور وقار عطا کرتا ہے۔
(ان پٹ: یو این آئی)






