
18 مئی 2020 میری زندگی کا وہ یادگار دن تھا جب میں نے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر شعبۂ اردو نتیشور کالج جوائن کیا۔ یہ زمانہ کووڈ-19 کا تھا اور کلاسز معطل تھیں۔ میری جوائننگ سے 7 سال قبل پروفیسر توقیر عالم (سابق پرو وائس چانسلر، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسٹی، پٹنہ) نتیشور کالج میں صدر شعبۂ اردو تھے، پھر اُن کا ٹرانسفر یونیورسٹی میں ہو گیا۔ تب سے نتیشور کالج میں اردو کا کوئی استاد نہیں تھا۔ جس وقت میں نے کالج جوائن کیا، شعبۂ اردو میں صرف ایک طالب علم زیر تعلیم تھا۔ آج الحمد للہ 150 سے زائد طلبا ہیں۔ اس وقت نتیشور کالج کا شعبۂ اردو مظفر پور اور مضافات کے طلبا کی پہلی پسند ہے۔
نتیشور کالج میں گزشتہ 5 سالوں کا تجربہ بہت ہی اطمینان بخش رہا۔ کالج انتظامیہ، پرنسپل، اساتذہ، طلبا و طالبات اور ان کے سرپرستوں نے توقع سے بڑھ کر محبت، حوصلہ اور اعتماد بخشا۔ جوائننگ کے وقت پروفیسر (ڈاکٹر) منوج کمار کالج کے پرنسپل تھے۔ انہوں نے جوائننگ کے کچھ ہی دنوں کے بعد مجھے کالج کا داخلہ انچارج اور ڈپٹی اگزامنیشن کنٹرولر بنا دیا۔ آپ کے لیے یہ جانکاری بھی خوشی کا باعث ہوگی کہ کالج میں ایک لائبریری ہے، جہاں اردو کے طلبا بڑی تعداد میں مطالعہ کرتے ہیں۔ اس لائبریری میں اردو کی کتابیں پہلے سے موجود تھیں، لیکن بیشتر کتابیں بہت پرانی اور بوسیدہ ہو چکی تھیں۔ میری گزارش پر پرنسپل صاحب نے 2 بار اردو کتابوں کی خریداری کی۔ پھر ایک دن مجھے بلایا اور کہا کہ ’’لائبریری سے سب سے زیادہ فائدہ آپ کے طلبا اٹھاتے ہیں، اس لیے آج سے لائبریری کا انچارج میں آپ کو بنا رہا ہوں۔‘‘
درس و تدریس کی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے شروع میں ہی ان اضافی ذمہ داریوں کو سنبھالنا میرے لیے ایک بڑا چیلنج ضرور تھا، لیکن ان ذمہ داریوں نے مجھے سیکھنے کے بہت سے مواقع دیے۔ اس وقت پروفیسر (ڈاکٹر) پرمود کمار ہمارے پرنسپل ہیں۔ زبان و ادب سے انہیں بھی گہری دلچسپی ہے۔ اکثر میری کلاسز میں آتے ہیں اور طلبا کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نے کالج میں آتے ہی مجھے اگزامنیشن کنٹرولر، کالج میگزین کا ایڈیٹر اور پلیسمنٹ سیل کا انچارج بنا دیا۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جوائننگ کے بعد سے اب تک کا میرا سفر چینلجز سے بھرپور ضرور رہا، لیکن اس نے مجھے بہت کچھ سکھایا بھی ہے۔





