کیوں سی ایم آدتیہ ناتھ کا گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کو خارج کرنا ’منافقت‘ کی مثال ہے؟

AhmadJunaidJ&K News urduJune 4, 2026357 Views


یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینے کے مطالبے کو ان کا ’دوہرا معیار‘قرار دیا تھا۔ وزیراعلیٰ کے تبصروں کو سینئر صحافی اور مصنف آکار پٹیل نے’ڈھونگ‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب مرکزی حکومت کے لیے یہ واضح کرنے کا صحیح وقت ہے کہ ہندوستان کا نظریہ  سیکولر اصولوں پر مبنی ہے یا مذہبی افکار پر۔

فوٹو: پی ٹی آئی

نئی دہلی: اتر پردیش میں گئو کشی کے خلاف سخت رخ اپنانے والی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکمرانی والے صوبے کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے حال ہی میں مسلم مذہبی رہنماؤں کی جانب سے گائے کو قومی جانور قرار دینےکے مطالبے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کا’دوہرا معیار‘قرار دیا ہے۔

سی ایم یوگی نے کہا کہ ایک طرف مولوی گئو کشی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور دوسری طرف مطالبہ کرتے ہیں کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گئو ماتا توبذات خودراشٹر ماتا ہے اور اسے راشٹر ماتا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔

دکن ہیرالڈ کی خبر کے مطابق، سوموار (1 جون) کو اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بجنور کے ایک پروگرام کے دوران کہا تھا  کہ،’گائے ہماری ماتاہے، اور کیا ماں اور بیٹے کے درمیان کچھ اعلان کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟‘

انہوں نے مزید کہا،’میں اس وقت ایک چلن دیکھ رہا ہوں۔ تمام مولوی اور مولانا یہ بیان دے رہے ہیں کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔ ہم نے کہا کہ گائے ہماری ماتا ہے اور جنم جنم کا ہمارا ناطہ ہے۔ کیا ماں اور بیٹے کے درمیان کچھ اعلان کی ضرورت پڑتی ہے؟ یہ ہمارے اقدار ہیں۔ اپنی ماں کے لیے جو احترام کا جذبہ رکھتے ہیں، وہی احترام کا جذبہ ہمارا ہے، ہم نے گائے کو ماتا مانا ہے۔‘

انڈین ایکسپریس کے مطابق، انہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ مسلم مذہبی رہنماؤں نے گائے کو ایک’جانور‘کہا، اور دعویٰ کیا کہ’جو لوگ گائے کو جانور کہتے ہیں، وہ گئو کشی کی بھی حمایت کرتے ہیں۔‘

اس سلسلے میں سی ایم یوگی نے کہا،’گائے ہمارے لیے ماتا ہے، جانور تمہاری عقل ہے۔ تمہاری سوچ حیوانی ہے جو گائے کو جانور بول رہے ہو۔ جیسے ہماری ماں کے بارے میں کسی کو تعارف دینے کی ضرورت نہیں ہوتی، ویسے ہی گئو ماتا کے بارے میں بھی کسی اعلان کی ضرورت نہیں ہے۔‘

اس دوران یوگی آدتیہ ناتھ نے مذہبی رہنماؤں کو خبردار کیا اور ان سے کہا کہ وہ اپنی برادری کے اندر گئو کشی کی حوصلہ شکنی کریں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اتر پردیش میں گئو کشی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس پورے معاملے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق صدر اور مصنف آکار پٹیل نے دکن کرانیکل میں ایک کالم لکھا ہے، جس میں انہوں نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کے ان تبصروں کو ’منافقت‘قرار دیا ہے۔

پٹیل کہتے، مسلمانوں کی  سب سے بڑی تنظیم جمعیۃ علماءہند کے صدر ارشد مدنی نے کہا ہے کہ مسلمانوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، کیونکہ اس سے ہجوم کے ہاتھوں ہونے والی لنچنگ اور گائے کے نام پر ہونے والا سیاسی استحصال رک جائے گا۔

مدنی نے یہ بھی کہا کہ قانون صرف ایک ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ جانوروں کے قتل سے متعلق قوانین تمام ریاستوں میں یکساں طور پر نافذ نہیں ہوتے۔

مدنی کے مطابق،’گائے کے نام پر ہونے والی ماب لنچنگ، بے گناہ انسانوں کا قتل، نفرت کی سیاست اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا یہ کھیل اب بند ہونا چاہیے۔ ہمیں خوشی ہوگی اگر گائے کو’قومی جانور‘قرار دے کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالا جائے، تاکہ نہ کسی انسان کی جان جائے اور نہ مذہب کے نام پر سیاست ہو۔‘

سابق نائب صدر حامد انصاری نے بھی اس مطالبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر گائے کو قومی جانور کا درجہ دینے سے گئو کشی سے متعلق بار بار ہونے والے جھگڑوں کو سلجھانے میں مدد مل سکتی ہے تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔

انصاری نے مسلمانوں سے عیدالاضحیٰ پر گائے کی قربانی نہ کرنے کی بھی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسلام کسی مخصوص جانور کی قربانی کو لازمی نہیں سمجھتا۔

انصاری نے اس ہفتے کے شروع میں انڈین ایکسپریس کو بتایا تھا،’میں نے خبروں میں پڑھا کہ کچھ لوگ یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ گائے کو قومی جانور قرار دیا جائے۔ مجھے لگا کہ یہ ایک بہت ہی معقول مطالبہ ہے۔ کیونکہ اگر آپ مسئلے کی جڑ ہی ختم کر سکتے ہیں تو ایسا کیا جانا چاہیے۔ ‘

قابل ذکر ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر ایگزیکٹو رکن اور اسلامک سینٹر آف انڈیا کے چیئرمین مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے بھی اس بات کی حمایت کی تھی۔

پٹیل اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ اگرچہ آئین کا آرٹیکل 48 ریاستوں کو گئو کشی  پر پابندی لگانے کی ترغیب دیتا ہے، لیکن یہ صرف ایک رہنما اصول ہے، کوئی لازمی قانون نہیں؛ اور اس کے علاوہ یہ ترغیب مذہبی بنیاد پر نہیں بلکہ معاشی بنیاد پر دی گئی ہے۔

اس مضمون میں بتایا گیا ہے کہ تاریخ میں مسلمانوں نے ان پابندیوں کو قبول کیا ہے جنہیں کھلے طور پر مذہبی پابندی کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

آئین ساز اسمبلی میں مسلمانوں نے ہندوؤں سے اپیل  کی تھی کہ وہ اس پابندی کو نافذ کریں، لیکن اس کے پیچھے اپنے مذہبی اسباب کو بالکلیہ واضح طور پر سامنے رکھیں۔

اتر پردیش کے ظاہر الحسن لاری نے اس وقت کہا تھا، ’ اگر ایوان کی رائے یہ ہے کہ گئو کشی پر پابندی لگنی چاہیے تو اسے واضح، قطعی اور بغیر کسی ابہام کے  ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔‘

ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ اس بحث کے دوران سعداللہ نے قرآن کی ایک آیت کا ذکر کیا تھا، جس کا مطلب ہے کہ مذہب کے معاملے میں کسی بھی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا تھا، ’ ہم یہاں اس رویے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے نہیں ہیں جسے اکثریتی طبقہ اپنانے جا رہا ہے۔ لیکن مسلم عوام کے ذہن میں یہ خیال نہیں رہنا چاہیے کہ وہ کوئی ایسا کام کر سکتے ہیں جبکہ دراصل ان سے ایسا کرنے کی توقع نہیں کی جاتی۔‘

پٹیل کا استدلال ہے کہ مختلف ریاستوں کے قوانین تشدد اور سیاسی پولرائزیشن  کو بڑھاوا دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب مرکزی حکومت کے لیے یہ واضح کرنے کا صحیح وقت آ گیا ہے کہ ہندوستان کا نظریہ  سیکولر اصولوں پر مبنی ہے یا مذہبی خیالات پر۔

وہ لکھتے ہیں،’ہو سکتا ہے اس سے بیف نام پر ہونے والی لنچنگ ختم ہو یا نہ ہو، لیکن اس سے منافقت ضرور ختم ہو جائے گی ۔ ‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...